.

سعودی تیل تنصیبات پرحملوں کے بعد روحانی کو نیویارک میں خسارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار'نیو یارک ٹائمز' کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک سال کے بعد ایران اقوام متحدہ میں اپنی ہمدردی ختم ہوتا ہوا دیکھ رہا ہے۔ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد ایرانی وزیرخارجہ دفاعی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے امید ختم کردی ہے کہ یورپی ممالک امریکی پابندیوں میں توازن برقرار رکھنے میں مدد کریں گے۔

گذشتہ برس ایرانی صدر حسن روحانی اور ان کے وزیر خارجہ جواد ظریف جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچے تھے تو انہیں اعتماد اور کامیابی کی کرن روشن دکھائی دے رہی تھی۔پریس کانفرنسوں اور ٹیلی ویژن چینلوں کودیے گئے انٹرویوز میں انہوں نے صدر ٹرمپ کو معاہدے کی خلاف ورزی پرناقابل اعتماد قرار دیا تھا۔ امریکا کہ سنہ 2015ء میں طے پائے معاہدے سے علاحدگی کے بعد ایران کو معاہدہ برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر ان کا طرز عمل بھی ایران کے لیے مایوس کن ثابت ہوا ہے

دفاعی پوزیشن

صدر حسن روحانی اچانک ایران کے دفاع میں امریکا میں تعلیم یافتہ اپنے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ مل گئے۔ انہوں نے سعودی عرب کے دو بڑی تیل تنصیبات کی تباہی میں ایران کے ملوث ہونے کی تردید کی۔ ایران کا یہ دعویٰ شاید سابق امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے لیے بھی شاید ہی قابل قبول ہو، جو چار سال قبل ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر بات چیت میں ہانپے جا رہے تھے۔ جان کیری ایران کے سب سے بڑے محافظ بن گئےتھے۔ انہوں نے بھی کہا ہے کہ سعودی عرب میں تیل تنصیبات پرحملے میں کسی نہ کسی طرح ایران کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

ایران اب اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ امریکی پابندیوں نے اس کی معیشت کو غیرمعمولی نقصان پہنچایا ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے کرنسی کی ویلیو گر گئی اور اس معاشی شرح نمو کو معاشی کساد بازاری میں بدل دیا۔

جب کہ ظریف اپنا بیشتر غصہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو کےلیےرکھتے ہیں، جنہوں نے انہیں "جنگ پر اکسانے والا" تک کہا ہے۔ انہوں نے اتوار کے روز نامہ نگاروں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا کہ یورپی ممالک کا ایران کے ساتھ معاملہ مایوس کن ہے۔ وہ ایک طرف معاہدہ برقرار رکھنے پر زور دیتے ہیں اور دوسری طرف امریکا کی طرف سے عاید کردہ پابندیوں کو ختم کرانے کے لیے کوئی موثر کردار ادا نہیں کررہے ہیں۔

یورپی ممالک کے خیال میں انہیں امریکا سے اجازت کی ضرورت ہے۔ جواد ظریف نے کہا کہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نے ان سے وعدے بہت کیے مگر ان کا ان وعدوں کو ایفا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اگر یہ ممالک ایران کےساتھ کیے گئے وعدے پورے پورے کرتےہیں تواس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہیں ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کومزید کشیدگی کا شکارکرنا ہوگا۔

پچھلے سال ایران جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت شریک ہوا جب تین ماہ پیشتر امریکا نے تہران پر پابندیاں عاید کی تھیں۔ ایران کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران یہ کوشش رہی کہ امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کوایک دوسرے کےساتھ الجھا دیا جائے۔

لیکن رواں سال ایران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بیداری کے مطالبے کے ساتھ آیا ہے۔ یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے نائب سربراہ ایلی گیرانامے نے کہا کہ جوہری معاہدے کی بقاء کے لیے ایران کو یورپی ممالک کی طرف سے محدود سیاسی حمایت کے سوا کچھ نہیں ملا۔

ان کا کہناہے کہ نیویارک پہنچنے والی ایرانی لیڈر شپ کو اندازہ ہوگیا ہے کہ یورپی ممالک تہران کو معاشی پابندیوں میں کوئی حقیقی نرمی مہیا نہیں کر سکتے ہیں۔ فرانس کی طرف سے ایران کو 15 عرب ڈالر کا قرض ادا کرنے کی تجویز بھی کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ امریکی حکومت ایران کو ایسی کوئی سہولت مہیا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی یورپی ممالک کے بنک اور کمپنیاں ایران کے ساتھ تعاون کریں گی۔

امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ دو ہفتے قبل صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کی راہ تلاش کررہے تھے تھے سعودی تیل تنصیبات پرحملوں کے بعد اب بات چیت کا موقع کھو چکا ہے۔

مصنوعی موقف

دونوں طرف سے بات چیت اور جنگ کی دھمکیوں کی مصنوعی پوزیشن بھی ہوسکتی ہے۔ کئی ماہ تک ایرانی لیڈر یہ کہتے رہے کہ ان کےملک کے پاس ٹرمپ کے ساتھ معاملات کرنے کےبات چیت کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ جواد ظریف جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکا میں گزارا ہےاب وہ ایران میں صدر بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

مزید برآں ٹرمپ کی طرف سے فوجی کارروائی اور مذاکرات کے درمیان اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ وہ کبھی کہتے کہ ایرانی واقعتا کسی "معاہدے" تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ ان کے معاونین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سربراہان کی ملاقات کے بھی خوہاں رہے جیسا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کےساتھ امریکی صدرکے براہ راست مذاکرات ہوئے۔ مگر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کااحساس ہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ایرانی حملے نے تہران کے ساتھ مذاکرات کے تمام امکانات خٰتم کردیے ہیں۔