.

یمن : اِب صوبے میں حوثی ملیشیا کا نگراں کمانڈر ہلاک ، قبائل کے ساتھ شدید کشیدگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز باغی حوثی ملیشیا کو اپنے ایک اہم کمانڈر سے ہاتھ دھونے کی صورت میں نئی کاری ضرب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یمنی مزاحمت کاروں نے ہفتے کے روز اِب صوبے کے ضلع السیانی میں صہبان کے علاقے میں حوثی ملیشیا کے نگراں عبدالکریم خالد ہاشم سفیان کو ہلاک کر دیا۔ یہ بات مقامی اخباری ویب سائٹ "نيوز يمن" نے ایک مقامی ذریعے کے حوالے سے بتائی۔

ذریعے کے مطابق یمنی مزاحمت کاروں نے حوثیوں کو دھمکی دی ہے کہ وہ السیانی اور النادرہ کے ضلعوں سمیت اِب صوبے کے مختلف علاقوں میں شہریوں کے خلاف ایران نواز باغیوں کی جانب سے وحشیانہ جرائم کے جواب میں مزید کارروائیاں اور کاری ضربیں عمل میں لائیں گے۔

اس ضمن میں ایک مقامی ذریعے نے انکشاف کیا کہ حوثی ملیشیا نے منگل کے روز اِب کے مشرقی ضلع النادرہ میں "آل فاضل" قبیلے کے ایک زخمی کو موت کی نیند سلا دیا۔ مذکورہ قبائلی بنی فاضل کے دیہات میں حوثیوں کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہو گیا تھا۔ بعد ازاں اسے ایک طبی ڈسپنسری منتقل کر دیا گیا جہاں حوثی باغیوں نے اس کا کام تمام کر دیا۔

دوسری جانب حوثی ملیشیا اِب صوبے کے متعدد دیہات اور علاقوں کی جانب مزید فورسز اور مسلح افراد کو اکٹھا کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت قبائلی افراد کے ساتھ جھڑپوں کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں دو قبائلی شیوخ خولان فاضل اور عمر علی فاضل جاں بحق ہو گئے۔ لڑائی میں حوثیوں کے 5 ارکان ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

حوثی ملیشیا نے النادرہ ضلع میں وادی اللحاء کے بعض دیہات میں چھاپے مارے اور درجنوں آر پی جی گرینیڈز داغے۔ بعد ازاں حوثی باغیوں کی مقامی آبادی کے ساتھ شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نے علاقے کو گھیرے میں لینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور وہ مزید عسکری کمک پہنچا رہی ہے۔ اس دوران قبائلی شیخ عبدہ ناجی فاضل نے علاقے کے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ حوثیوں کے راستے کی دیوار بن جائیں اور حوثیوں کو ان دیہات پر دھاوے کا موقع نہ دیں جو ابھی تک حوثیوں کے کنٹرول سے باہر ہیں۔