.

ترکی نے دہشت گردوں کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے: شامی وزیر خارجہ کا الزام

امریکا اور ترکی نے شام کے شمالی علاقے میں غیر قانونی طور پر موجودہ ہیں: جنرل اسمبلی میں تقریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی وزیرخارجہ ولیدالمعلم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چوہترھویں سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے ترکی پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ سمجھوتوں کی پاسداری نہیں کررہا ہے اور اس نے دہشت گردوں کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔

انھوں نے عالمی لیڈروں کے اجتماع میں کہا ہے کہ امریکا اور ترکی نے شام کے شمالی علاقے میں غیر قانونی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا’’ جو بھی غیر ملکی فورسز ہماری اجازت کے بغیر ہمارے علاقے میں موجود ہیں، ان کی حیثیت قابض فوج کی ہے اور انھیں فوری طور پر وہاں سے نکل جانا چاہیے۔‘‘

ترکی 2016ء کے بعد شمالی شام میں دو فوجی کارروائیاں کرچکا ہے۔ترک فوج نے دریائے فرات کے مغربی کنارے میں ان کارروائیوں میں داعش اور کرد ملیشیا وائی پی جی کو نشانہ بنایا تھا۔ترکی اس ملیشیا کو اپنے یہاں کے باغی گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے ) کا حصہ قرار دیتا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری گذشتہ آٹھ سال کے دوران میں شام میں جاری بحران کے پُرامن حال میں ناکام رہی ہے۔اب شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے باغیوں کے زیر قبضہ بیشترعلاقے واپس لے لیے ہیں اور صرف شمال مغربی صوبہ ادلب باغیوں کے زیر قبضہ رہ گیا ہے جبکہ شام کا شمال مشرقی علاقہ امریکا کے حمایت یافتہ کرد گروپوں کے زیر قبضہ ہے۔بیشتر شامیوں کا کہنا ہے کہ دنیا نے انھیں بشارالاسد کی فورسز کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔

اسی ہفتے کے اوائل میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے شام کا نیا دستور تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔انھیں امید ہے کہ نئے آئین کی تیاری سے جنگ زدہ ملک میں جاری بحران کے پُرامن حل کی راہ ہموار ہوگی۔اس کے تحت انتخابات منعقد کرائے جاسکیں اور انتقال اقتدار کے لیے پیش رفت ہوسکے گی۔