.

'عراق کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کا اکھاڑا نہیں بننے دیں گے'

عراقی وزارت دفاع نے ایرانی وزیر کا دھمکی آمیز بیان مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزارت دفاع نے بغداد میں متعین ایرانی سفیر کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے دھمکی دی تھی کہ ایران پر حملے کی صورت میں عراق میں موجود امریکی فوج کو نشانہ بنایا جائے گا۔

وزارت کے ترجمان میجر جنرل تحسین الخفاجی کہا کہ ہم اپنے ملک کو تنازعات کی وجہ سے عالمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا میدان نہیں بننے دیں گے۔

الخفاجی نے کہا کہ عراق نے ایران یا امریکا کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ "عراقی سر زمین ایک سرخ لکیر ہے اور ہم کسی کے خلاف اس کے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "عراق سےایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی وہ اپنی سرزمین پر امریکی مفادات کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت دے گا"۔ وزارت نے زور دے کر کہا کہ عراق ہمسایہ ممالک پر حملے میں اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔

الحدث چینل سے بات کرتے ہوئے الخفاجی نے کہا کہ ہم ایران اور امریکا کے مابین پر تنائو کو کم کرنے اور تنازعات کو پر امن طریقے سے حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی عراق میں امریکا کی لڑاکا فوج تعینات نہیں۔

خفاجی نے زور دے کر کہا کہ بغداد عراقی خود مختاری پر حملہ کی اجازت نہیں دے گا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں بغداد میں ایران کے سفیر ایرج مسجدی نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران پر امریکا نے حملہ کیا تو عراق یا کسی اور جگہ پر امریکی افواج کو جوابی حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

ایک عراقی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ خطے میں امریکی فوج کی موجودگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے مطالبات میں ایک بڑا مطالبہ خطے سے امریکی فوج کی واپسی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی فوج کی موجودگی تعمیری نہیں بلکہ تخریبی ہے۔

ایرج مسجدی نے کہا امریکی موجودگی خطے میں عدم استحکام اور عدم تحفظ کا باعث ہے۔

عراق میں امریکی موجودگی کے حوالے سے ایرانی سفیر نے بتایا کہ ان کے ملک عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی سے امریکیوں کو عراق سے نکالنے کے لیے کہا ہے۔