.

آرامکو حملہ ۔۔۔ عرب ممالک سلامتی کونسل میں متحرک ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے 14 ستمبر کو سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کی صورت میں ،،، عرب ممالک کے آئندہ لائحہ عمل کا انکشاف کیا ہے۔

یہ انکشاف منگل کے روز عربی روزنامے "الشرق الاوسط" میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں سامنے آیا۔ ابو الغیط کا کہنا تھا "میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کروز میزائل اور ڈرون طیارے ایران کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ میں تحقیقاتی رپورٹ کا منتظر ہوں۔ تاہم میرے پاس موجود اشارے اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ یہ ہتھیار ایران میں تیار کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کس نے چلائے اور کہاں سے چلائے گئے ،،، جواب آنے پر تمام با اثر اداروں کا رخ کیا جائے گا جن میں سلامتی کونسل بھی ہے"۔

ابو الغیط نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر مجرمانہ حملوں کی جاری حالیہ تحقیقات پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ یہ تحقیقات "درست طور پر اس بات کا تعین کر دے گی" کہ ذمے دار کون ہے۔

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نے سعودی قیادت کی "انتہائی دانش مندی" کو سراہا۔ دوسری جانب انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ ابھی تک اپنے انقلاب کو برآمد کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ابو الغیط نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں ایران کو ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ابو الغیط نے مزید کہا کہ عرب ممالک اس معاملے میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ کھڑے ہیں کہ ایران ان کے اندرونی امور میں مداخلت نہ کرے۔ ایرنی مداخلت پر روک لگانے کے حوالے سے ایک نہایت واضح عرب حکمت عملی موجود ہے۔ اس حکمت عملی کے باعث ایران کو عرب ممالک کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ تعلقات میں مشکلات کا سامنا ہے۔

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل کے مطابق تہران نے 2006 میں حزب اللہ کو اور 2008 اور 2009 میں حماس کو اُکسا کر اسرائیل کے ساتھ جنگ میں دھکیلا۔

انہوں نے واضح کیا کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر شامی وزیر خارجہ ولید المعلم کے ساتھ ان کے مصافحے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ دمشق کے عرب لیگ میں اپنی نشست پر لوٹنے کے لیے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ ابو الغیط کے مطابق شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ مسئلے کے تصفیے کے لیے "عرب ممالک کا اجتماعی ارادہ" ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔

ابو الغیط نے باور کرایا کہ اس سلسلے میں مرکزی شرط یہ ہے کہ "نیا شام" کسی طور بھی ایران کی گود میں نہ ہو۔ یاد رہے کہ شام کی تعمیر نو کے سلسلے میں مطلوب رقم کا اندازہ 600 سے 800 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔