.

حزب اللہ کی تاسیس اور تنظیم سازی میں خامنہ ای کا کردار قائدانہ رہا ہے: حسن نصراللہ

امل اورحزب اللہ کے درمیان موجودہ قریبی تعلقات کی بنیاد ایرانی رہبرِاعلیٰ ہی نے رکھی تھی:انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی تاسیس ، تنظیم سازی اور تربیت کے عمل میں مکمل طور پر شریک رہے ہیں۔اس بات کا انکشاف اس تنظیم کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ نے ایرانی رہبرِاعلیٰ کی ویب سائٹ ’خامنہ ای ڈاٹ آئی آر‘ کو پانچ گھنٹے کے طویل انٹرویو میں کیا ہے۔

حزب اللہ ایران کی مالی، عسکری اور فنی معاونت سے 1985ء میں قائم کی گئی تھی۔حسن نصراللہ کے بہ قول خامنہ ای اس تنظیم کے ابتدائی برسوں میں ہر چیز میں دخیل تھے۔اس کے رہ نما اصول ، مقاصد ، اہداف اور معیار وضع کرنے میں ان ہی کا کردار تھا اور وہ ہرمسئلے کا حل بتاتے تھے۔

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے لبنان میں خانہ جنگی کے برسوں میں حزب اللہ کو رقوم مہیا کی تھیں اور اس کے جنگجوؤں کو عسکری تربیت دی تھی۔یہ تب سے ایران کی ایک آلہ کار گماشتہ تنظیم کے طور پر کام کررہی ہے لیکن اس کو امریکا ، برطانیہ اور عرب لیگ کے رکن ممالک نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

حسن نصر اللہ نے اس انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ’’حزب اللہ کی تاسیس کے دوش بدوش خامنہ ای کے پیش رو امام روح اللہ خمینی نے پاسداران انقلاب کو شام اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت سے نمٹنے کے لیے بھیجا تھا۔ ان کے بعد 1989ء میں خامنہ ای نے ایران کا رہبراعلیٰ بننے کے بعد خطے میں مزاحمت کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے ، بالخصوص انھوں نے ایران میں وزارتوں اور حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود لبنان میں مزاحمت کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

حسن نصراللہ 1992ء سے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل چلے آرہے ہیں۔ تب ان کے پیش رو کو اسرائیلی فورسز نے قتل کردیا تھا۔ انھوں نے ملیشیا کا سربراہ بننے کے بعد سے خامنہ ای کے زیر قیادت ایران کے ساتھ قریبی تعلقات استوار رکھے ہیں۔

انھوں نے انٹرویو میں خامنہ ای کی خوب مدح سرائی کی ہے اور کہا کہ انھوں نے حزب اللہ اور اس کی اتحادی امل تحریک کے درمیان اختلافات کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔امل تحریک لبنان کی شیعہ کمیونٹی کی سیاسی جماعت ہے اور تجربے کار سیاست دان نبیہ بری اس کے سربراہ ہیں۔

امل اور حزب اللہ لبنان کے ’’آٹھ مارچ سیاسی اتحاد‘‘ کا حصہ ہیں۔ یہ شامی صدر بشارالاسد کے نظام کی بھرپور مدد کررہا ہے۔ان دونوں تنظیموں کے درمیان ماضی میں لبنان کی شیعہ کمیونٹی میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے محاذ آرائی رہی تھی لیکن اب یہ دونوں اتحادی ہیں۔

حسن نصراللہ نے کہا کہ یہ آیت اللہ علی خامنہ ای ہی تھے جنھوں نے لبنانی گروپوں کے درمیان کسی بھی تنازع یا اختلاف کی مخالفت کی اور ان کے درمیان شاندارپُرامن تعلقات کی ضرورت پر زوردیا۔

ان کے بہ قول ’’حزب اللہ اور امل کے درمیان موجودہ قریبی تعلقات کی بنیاد خامنہ ای ہی نے رکھی تھی۔انھوں نے اس مقصد کے لیے رہ نما اصول وضع کیے تھے۔ چناں چہ ان کا نتیجہ ہے کہ آج ان دونوں تنظیموں میں تعلق داری تزویراتی نہیں رہی بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔‘‘

ایران نے گذشتہ اتوار کو سید حسن نصراللہ اور علی خامنہ ای کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ’’پہلے کبھی نہ دیکھی گئی‘‘ کے عنوان سے ایک تصویر جاری کی تھی۔