.

عراق بھر میں پُر تشدد احتجاجی مظاہرے،ہلاکتوں کی تعداد سات ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد کے بعد احتجاجی مظاہرے دوسرے شہروں تک پھیل گئے ہیں۔سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ایک پولیس افسر سمیت مزید چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد سات ہوگئی ہے اور مزید ایک سو پندرہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

بغداد میں منگل کو اربابِ اقتدار واختیار کی بدعنوانیوں ، بے روزگاری کی شرح میں اضافے اور شہری خدمات کے پست معیار کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔بدھ کو دوسرے روز بغداد کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی ہزاروں عراقیوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کررہے تھے۔

شہر میں مظاہرے میں شریک ایک عراقی کا کہنا تھا کہ ’’ ہم تبدیلی کے لیے مظاہرہ کررہے ہیں۔ہم عراقی حکومت کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔‘‘

عراق کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’’بغداد کے علاقے ظفرانیہ میں ایک احتجاجی نے ایک مسافر گاڑی پر پٹرول سے بھری بوتل پھینک دی تھی جس سے ایک بچہ جاں بحق ہوگیا ہے۔‘‘

مظاہرین نے بغداد کے قلعہ نما گرین زون کی جانب جانے والے ایک پُل کو عبور کرنے کی کوشش کی ہے۔اس دوران میں پولیس نے ان پر گولیاں چلائی ہیں۔گرین زون میں عراقی حکومت کے دفاتر ، سرکاری عمارتیں اور غیرملکی سفارت خانے واقع ہیں۔سکیورٹی فورسز نے گرین زون کی جانب جانے والی شاہراہوں کو بند کررکھا تھا۔

جنوبی شہر ناصریہ میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلا دی ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔پولیس اور محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک احتجاجی اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا ہے۔

بغداد میں پولیس اور فوج نے آج بھی مظاہرین پربراہ راست فائرنگ کی ہے اور انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔ ناصریہ کے علاوہ دوسرے جنوبی شہروں میں بھی ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور روزگار اور بنیادی خدمات کی عدم دستیابی سے نالاں شہری اب ایک مرتبہ پھر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

ناصریہ میں مظاہرین نے بلدیہ کی عمارت کے نزدیک آگ لگا دی۔ الکوت میں سیکڑوں افراد نے بلدیہ کی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی اور ہلہ اور دیوانیہ میں سیکڑوں افراد نے احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں۔ نجف اشرف میں مظاہرین کی تعداد دوسرے شہروں کے مقابلے میں کم رہی ہے۔

تیل کی دولت سے مالامال جنوبی شہر بصرہ میں ہزاروں افراد نے صوبائی انتظامیہ کی عمارت کے سامنے اکٹھے ہوکر احتجاج کیا ہے لیکن ان کی ریلی پُرامن تھی۔سماوا میں بھی پُرامن مظاہرے ہوئے ہیں۔شمالی شہروں کرکوک ، تکریت اور مشرقی صوبہ دیالا سے بھی احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں لیکن ان میں شرکاء کی تعداد کم رہی ہے۔

ہنگامی اجلاس

دریں اثناء وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے قومی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی ہے۔اس کے بعد جاری کردہ بیان میں مظاہرین کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور احتجاج کے حق اور اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کا عزم کیا گیا ہے۔

کونسل نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ توڑ پھوڑ اور گھیراؤ جلاؤ کی کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے۔

اس نے شہریوں ، سرکاری اور نجی املاک کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کے عزم کا اظہار کیا ہے۔تاہم بیان میں بدھ کے احتجاجی مظاہروں کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔

وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے گذشتہ روز کابینہ کے ایک اجلاس کی صدارت کے بعد گریجوایٹ نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کا لولی پاپ دیا تھا۔انھوں نے وزارتِ تیل اور دوسرے سرکاری اداروں میں بے روزگار نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ غیرملکی کمپنیوں کو ٹھیکا دیتے وقت ملازمتوں میں مقامی ورکروں کے لیے پچاس فی صد کوٹا مختص کیا جائے۔

واضح رہے کہ عراق کے جنوبی شہروں میں گذشتہ سال کے اوائل میں بھی بے روزگاری ، ارباب اقتدار کی بدعنوانیوں ، بجلی کی کئی کئی گھنٹے تک بندش اور شہری خدمات کے پست معیار کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔ بصرہ اور دوسرے شہروں میں اس احتجاجی تحریک کے دوران میں بھی سکیورٹی فورسز نے تشدد کا راستہ اختیار کیا تھا اور ان کارروائیوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

عراقی پولیس نے مظاہرین کو بغداد میں تحریر اسکوائر کی جانب جانے سے روکنے کے لیے شاہراہ پر خاردار تار لگا رکھا ہے۔
عراقی پولیس نے مظاہرین کو بغداد میں تحریر اسکوائر کی جانب جانے سے روکنے کے لیے شاہراہ پر خاردار تار لگا رکھا ہے۔