.

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے خطے میں "پھیلاؤ" کے عزائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے پاسداران انقلاب کی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ "محض خطے میں موجودگی پر اکتفا نہ کریں بلکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے موجودہ پوزیشنوں سے آگے اپنے پھیلاؤ کو یقینی بنائیں"۔

خامنہ ای نے یہ بات بدھ کے روز پاسداران انقلاب کی قیادت سے خطاب میں کہی جو ان کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کیا گیا۔

ایرانی سپریم لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ یہ سرحد پار وسیع ویژن اور تزویراتی گہرائی کا پھیلاؤ ملک کے لیے اولین فرائض میں سے ہے۔

خامنہ ای نے پاسداران انقلاب کی قیادت پر زور دیا کہ وہ "زیادہ بڑے واقعات" کے لیے تیار رہیں۔ انہوں نے ملک کے اس طاقت ور ترین عسکری ادارے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے باور کرایا کہ "ہمیں اپنے علاقے تک محدود نہیں رہنا چاہیے اور نہ خود کو چار دیواری کے اندر رکھنا چاہیے تا کہ سرحد پر سے آنے والے خطرات سے نمٹا جا سکے"۔

خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن اور اس کے خطے میں حلیفوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ گذشتہ ماہ سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے فوری بعد اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ امریکا نے حملوں کے حوالے سے ایران کو ملامت کا نشانہ بنایا ہے۔ بعض مبصرین تو فوجی تصادم کے امکان کی بھی بات کر رہے تھے۔

ایرانی ذمے داران جن میں سپریم لیڈر سرفہرست ہیں ،،، ان کے نزدیک ایرانی نفوذ کے تحت ممالک مثلا عراق، شام، یمن اور لبنان ،،، یہ ایرانی نظام کے واسطے "تزویراتی گہرائی کا محور" بن گئے ہیں۔

ایران کی جانب سے مذکورہ ممالک میں مداخلت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے وہاں مسلح ملیشیاؤں کو سپورٹ مہیا کرنے کے علاوہ جنگوں اور تنازعات کو طول دیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کیے جانے کے باوجود ہو رہا ہے۔ ان پابندیوں کا سبب تہران کی جانب سے دہشت گردی کی سپورٹ ہے۔