.

بغداد میں مظاہروں کے بعد امریکی سفارت خانے کی قونصلر خدمات معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں احتجاجی مظاہروں کے بعد امریکی سفارت خانے نے معمول کی تمام قونصلر خدمات معطل کردی ہیں۔

سفارت خانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب تک عراقی حکومت شہر میں نافذ کرفیو ہٹا نہیں دیتی،اس وقت تک تمام خدمات معطل رہیں گی۔

عراقی حکومت نے جمعرات کو علی الصباح بغداد میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔اس کے تحت شہر بھر میں تمام پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کی نقل وحرکت پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔ البتہ ایمبولینس گاڑیاں اور ہوائی اڈے کی جانب جانے اوروہاں سے آنے والے مسافر اس پابندی سے مستثنا ہوں گے۔

سفارت خانے کے نوٹس میں امریکی شہریوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مظاہروں کے علاقوں میں جانے سے گریز کریں اور موجودہ حالات میں عراق کا سفر بھی نہ کریں۔واضح رہے کہ امریکا کے محکمہ خارجہ نے مئی میں اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایت نامہ جاری کیا تھا اور اس میں انھیں عراق کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی تھی۔

بغداد میں منگل کے روز اربابِ اقتدار واختیار کی بدعنوانیوں ، بے روزگاری کی شرح میں اضافے اور شہری خدمات کے پست معیار کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے اور وہ بدھ کو ملک کے جنوبی شہروں تک بھی پھیل گئے ہیں۔

آج مسلسل تیسرے روز بغداد کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی ہزاروں عراقیوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کررہے تھے۔

بغداد اور دوسرے شہروں میں پولیس اور فوج نے مظاہرین پربراہ راست فائرنگ کی ہے اور انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک ایک پولیس اہلکار سمیت پندرہ شہری ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔