.

حرمین ٹرین پروجیکٹ میں بدعنوانی کا دعویٰ جھوٹ نکلا: پبلک پراسیکیوٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوشن کے ایک سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پبلک پراسیکیوشن کے حکام نے جدہ میں حرمین ایکسپریس کے پروجیکٹ میں مبینہ بدعنوانی کا سوشل میڈیا پر سامنے آنے والا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جس شخص نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ'ٹویٹر' پر بار بار ایک ٹویٹ شیئر کی تھی جس میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ جدہ میں حرمین پر منصوبے میں بڑے پیمانے پرگھپلے ہوئے ہیں اور اس کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت ہیں۔ مگرجب اس شخص کو طلب کرکے اس سے بدعنوانی کے ثبوت مانگے گئے تو اس نے کہا کہ اس کے پاس اس کا کوئی ثبوت یا دستاویز نہیں۔

پبلک پراسیکیوشن حکام کا کہنا ہے کہ مانیٹرنگ یونٹ نے نوٹ کیا کہ ایک شخص نے اپنے ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعہ ایک سے زیادہ بار ٹویٹ کیا کہ جدہ میں الحرمین ٹرین اسٹیشن پروجیکٹ میں کنٹرول اور فائر سسٹم میں بدعنوانی کا شبہ ہے۔ ساتھ ہی اس نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کے پاس اس کے ثبوت بھی موجود ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق بدعنوانی کی ٹویٹس کرنے والے شخص کو طلب کرکے اس سے اس کے دعوے کے مطابق ثبوت مانگے گئے تو اس نے کہا کہ اس کے پاس کسی قسم کا ثبوت موجود نہیں ہیں، اس کا تذکرہ اپنی ٹویٹس میں کیا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس نے پہلے بھی اس معاملے سے متعلق سرکاری وکیل کو کوئی دستاویزات پیش نہیں کی تھیں۔

استغاثہ نے تفتیش کے دوران یہ بھی نتیجہ اخذ کیا کہ مذکورہ بالا شخص سے پہلے سے بھی فوجداری مقدمات میں تفتیش کی جاچکی ہے۔ وہ خواہ مخواہ افواہیں پھیلانے کی کوشش کررہا ہے۔ اسے ایک کمپنی میں ملازمت سے اس لیے نکالا کہ اس نے وہاں پر بھی کرپشن کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ اس کا جدہ میں سلیمانیہ ٹرین اسٹیشن منصوبے پر عمل درآمد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

دوسری طرف پبلک پراسیکیوشن نے کہا ہے کہ منصوبےمیں شفافیت اور مکمل غیر جانبداری کے اصول کی پیروی کرتے ہوئے اس ضمن میں کسی بھی مجرمانہ شبہ کے وجود کی تصدیق کی صورت میں قواعد و ضوابط کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔