.

'قطری شہزادے نے اپنے ذاتی محافظ کو دو افراد کے قتل کا حکم دیا تھا'

الشیخ خالد بن حمد آل ثانی پرامریکا میں 34ملین ڈالر ہرجانے کا مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی ذرائع ابلاغ نے قطر کے شاہی خاندان کے ایک نئے اسکینڈل کا پردہ چاک کرتے ہوئے امیر قطر کے بھائی کے ایک ذاتی محافظ کا بیان نقل کیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ اسے دو افراد کو ہلاک کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

برطانوی اخبار'ڈیلی میل' نے امیر قطر الشیخ تمیم بن حمد کے سوتیلے بھائی خالد بن حمد الثانی کو ایک "شرارتی" یا 'پلے بوائے' قراردیا ہے جو دیوانگی یا زیادہ تر نشے کی حالت میں رہتا ہے۔

'ڈیلی میل' کی خبر کے مطابق الشیخ خالد بن حمد آل ثانی سنہ 2017ء اور 2018ء کے دوران امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں قیام پذیر رہے۔ اس دوران ایک سابق نیول اہلکار ماتھیو پیٹرڈ نے ان کےذاتی محافظ کی خدمات انجام دیں۔ پیٹرڈ نے بتایا کہ خالد بن حمد نے انہیں دو افراد کے قتل پر اکسایا تھا۔

پیٹرڈ کے ساتھ سابق امیر قطرحمد بن خلیفہ الثانی کے بیٹے خالد بن حمد کے خلاف ان کا ذاتی معالج میتھیو الینڈے بھی مقدمہ چلا رہا ہے جس نے اسی وقت خالد بن حمد کو طبی ساتھی کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔

وفاقی عدالت میں کیس

الینڈے کا کہنا ہے کہ خالد بن حمد کے ساتھ محافل موسیقی اکثر مسلسل 36 گھنٹے ساتھ رکھاجاتا۔ پھر جب وہ خالد بن حمد کے محل سے دیوار پھلانگ کر فرار ہونے کی کوشش کے دوران زخمی ہوا تو اسے واقعی یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

پیٹرڈ اور الینڈی نے امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے قطر کی شاہی شخصیت کے خلاف 34 ملین ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کررکھاہے۔ انہوں ے اپنے دعوے میں ذاتی محافظ کی خدمات انجام دیتے ہوئے تن خواہ نہ ملنے، اضافی وقت کام کرنے، زخمی ہونے اور ظالمانہ انداز میں ملازمت سے فارغ کرنے جیسے نکات شامل کیے ہیں۔

پیٹرڈ کا کہنا ہے کہ اس نے سب سے پہلے قطر میں خالد بن حمد کی ایک کمپنی میں دفاعی ٹھیکیدار کی حیثیت سے کام کیاجہاں اس نے قطری فوجیوں اور پولیس افسران کو تربیت دی۔

پیٹرڈکا کہنا ہے کہ ستمبر سنہ2017ء میں خالد بن حمد نے انہیں امریکا میں اپنا سیکیورٹی چیف اور قطر میں سینیر دفاعی مشیر کی حیثیت سے نوکری سے رکھا تھا۔ اس کےذمہ داری میں خالد بن حمد اور اس کے سفرکرنے والے دیگر افراد کی حفاظت کرنا بھی شامل تھا۔ وہ اکثر امریکا ، قطر اور لندن کے مابین سفر کرتے تھے۔

چھ ہزار ڈالر قرض

'اے بی سی ایکشن نیوز چینل' سے بات کرتے ہوئے پیٹرڈ نے کہا کہ جس مہینے اس نے الشیخ خالد بن حمد کے ساتھ کام شروع کیا تو ایک شخص خالد بن حمد کے پاس قرض وصول کرنے آیا جس کی مالیت صرف چھ ہزار ڈالر تھی۔ خالد بن حمد نے مجھے کہا کہ اس شخص کو مار ڈالو۔

پیٹرڈ نے کہا کہ اس نے خالد بن حمد کی درخواست کو پورا کرنے سے انکار کردیا اور اس شخص کا قرض خود ادا کیا۔

ٹی وی چینل نے استفسار کیا کہ یہ خالد بن حمد کی طرف سے مذاق بھی ہو سکتا ہے تو پیٹرڈ واضح طور پر جواب دیا: "بالکل نہیں۔"

حسد کرنے والی عورت کے قتل کا حکم

پیٹرڈ نے کہا کہ اسی سال نومبر خالد بن حمد نے اسے ایک ایسی عورت کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا جو اس سے حسد کرتی تھی اور اسے شبہ تھا کہ وہ مشرق وسطی کے کسی اور ملک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو خط لکھ رہی ہے۔ پیٹرڈ کو کہا گیا کہ وہ اس عورت کو "مافیا اسٹائل" میں اس کے سر پر دو بار گولی مارے اور صحرا میں دفن کر دے۔

اس کا کہنا ہے کہ میں اس وقت اٹھ کھڑا ہوا۔ میں قطری شہزادے پر واضح کردیا کہ وہ آئندہ مجھے ایسا کرنے کا کبھی نہ کہے۔

اگلے سال جولائی میں ملازمت کے دوران انھیں معلوم ہوا کہ خالد بن حمد اپنے ایک محل میں ایک امریکی شہری کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔

اس کے بعد خالد بن حمد نے اسے قطرکی جیل میں ڈال دیا مگر پیٹرڈ نے امریکی سفارتخانے کے عملے کی مدد سے امریکی کو قطر کی جیل سے رہا کرایا۔

جب خالد بن حمد کو معلوم ہوا امریکی کو پیٹرڈ نے رہا کرایا ہےتو اس نے پیٹرڈ کو فون کر کے اسے اور اس کے اہل خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد اس نے بندوق کی نوک پر مجبور کیا کہ وہ یہ سارے معاملات"صیغہ راز" میں رکھنے معاہدے پر دستخط کرے اور انہیں افشاء نہ کرے۔

منشیات کا زیادہ استعمال

آلینڈے جنہوں نے اکتوبرسنہ 2017 ء سے فروری 2018ء تک خالد بن حمد کے معالج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں نے بتایا کہ خالد بن حمد بہت زیادہ نشہ کرنے والی شخصیت ہیں۔ وہ اکثرموسیقی کی محلفوں میں شرکت کے دوران بہت زیادہ 'پی' جاتا۔ بے تحاشا نشہ کرنے کی وجہ سے اسے اپنی زندگی خطرے میں محسوس ہوتی تھی۔ اس لیے وہ اسے بعض اوقات 24 اور 36 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی پر مامور رکھتا کہ کہیں نشے کی وجہ سے اس کی موت نہ واقع ہوجائے۔

ڈیلی میل نے 'اے بی سی ایکشن نیو'ز کے حوالے سے بتایا ہے کہ جب شہزادہ خالد بن حمد بہت زیادہ مقدار میں ہیئروئن پی کرہوش وہواس کھو بیٹھتا تو اسے ہوش میں لانے اور نشے کا اثر کم کرنے کے لیے Narcan استعمال کی جاتی۔

اسے عموما ایک زرد رنگ کی عجیب وغریب فیراری لگژری کار میں اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے دیکھا جاتا۔

دلچسپ واقعہ

اللینڈے نے بتایا کہ قطرمیں خالد بن حمد کی رہائش گاہ پر تین ہفتوں تک مسلسل 36 گھنٹے کی ڈیوٹی دیتے ہوئے وہ بہت زیادہ تھک گیا تھا۔اس نے ایک دن کی رخصت کے لیے درخواست دی۔ اسے ایک دن کی چھٹی مل گئی مگر جب وہ محل کے دروازے پر پہنچا تو مسلح گارڈ نے اسے یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ 'خالد بن حمد نے اپنا فیصلہ بدل لیا تھا اور اسے وہاں سے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

جب گارڈ نے اسے زبردستی واپس دھکیل دیا تو اسے خطرہ محسوس ہوا اور اس نے تقریبا 6 میٹر اونچی دیوار کی چوٹی سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔

آلینڈے نے مزید کہا کہ جب وہ دیوار کے دوسری طرف گر گیا تو اس کے پاؤں میں فریکچر ہوا جس کی وجہ سے اسے فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت پڑ گئی۔ اسے پہلے ہی ایک بار پھر محل میں گھسیٹا گیا تھا ، جہاں وہ دو ماہ کے بعد واپس امریکا جا سکا۔

یہ واقعہ خالد بن حمد تک محدود نہیں بلکہ قطری شاہی خاندان کے ہر دوسرے لاڈلے شہزادے کی ایسی ہی عجیب وغریب عادات ہیں۔ سنہ 2015ء میں شہزادہ خالد بن حمد آل ثانی کو امریکا میں خطرناک ڈروائیونگ کرکے امریکی شہریوں کی جانیں خطرے میں ڈالنے کے الزام میں امریکا سے نکلنے پرمجبور کیا گیا تھا۔

امریکا میں شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کے واقعے کی ویڈیو بنانے والے صحافی کو بھی اس نے پولیس اسٹیشن میں طلب کرکے قتل کی دھمکی دی۔ خالد بن حمد نے دعویٰ کیا کہ اسے امریکا میں سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔ نیز اس پرخطرناک ڈرائیونگ کی ہی نہیں۔ اس پر فراری کار کو خطرناک انداز میں چلانے کا دعویٰ غلط ہے۔