.

ایران کا یمن میں جزوی فائر بندی کی بات کرنا "سستی سوداگری" ہے : خالد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا ہے کہ مملکت ،،، یمن میں اعلان کردہ جزوی فائر بندی کو مثبت نظر سے دیکھتی ہے اور امید کرتی ہے کہ اس کو واقعتا نافذ کیا جائے گا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی اس بات کو باور کرا چکے ہیں۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا کہ ایران کی جانب سے یمن میں جزوی فائربندی کی بات کرنا درحقیقت "سستی سوداگری" اور یمن اور اس کے عوام کے استحصال کی کوشش ہے ،،، جب کہ اس سے قبل ایرانی نظام خود یمن میں بحران پیدا کر کے اسے مسلسل بھڑکاتا رہا ہے۔

سعودی نائب وزیر دفاع کے مطابق ایرانی نظام اپنے مفادات کی خاطر انتہائی گھٹیا طریقے سے یمن کے استحصال کے لیے کوشاں ہے۔ ایک طرف ایران خود کے دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذمے دار ہونے سے فرار اختیار کر کے یمنیوں کو ملامت اور الزامات کا نشانہ بنا رہا ہے اور دوسری طرف وہ یمنیوں کی جانب سے خود جزوی فائر بندی کے لیے کوشاں ہونے کی بات کر کے یمنی عوام کی حیثیت کم کر رہا ہے۔ یہ مواقف ایران کی جانب سے گمراہ کرنے کی مہم کا حصہ ہیں۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ یہ ایرانی وزیر خارجہ ہیں جن کا دعوی ہے کہ ان کی حکومت جزوی فائر بندی کی شدید خواہاں ہے ،،، وہ ایرانی حکومت کے دفاع کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ایرانی وزیر خارجہ نے بزدلانہ طریقے سے ابقیق اور خریص میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کا ذمے دار یمنیوں کو ٹھہرا دیا جب کہ انہیں یمن کے امن، سلامتی اور استحکام کا بھی کوئی خیال نہ رہا۔

سعودی نائب وزیر دفاع نے زور دیا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ تمام یمنی اٹھ کھڑے ہوں ، ہم انتشار، فتنے اور تباہی سے متعلق ایرانی منصوبے کے سامنے ان کے ساتھ ایک صف میں ہیں۔ یمنیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کے مفاد، امن، سلامتی، استحکام اور اپنے معزز عوام کی ترقی کو کسی بھی دوسرے مفاد پر مقدم رکھیں"۔