.

عراق : احتجاجی مظاہروں میں 31 افراد کی ہلاکتوں پر عوام غیظ و غضب کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں معاشی حالات کی ابتری اور ملک میں پھیلی بدعنوانی اور بے روزگاری کے خلاف منگل کے روز شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اب تک 31 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ بعض مظاہروں کے دوران ایران اور اس کی حمایت یافتہ "ملیشیاؤں" کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی۔

اگرچہ عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے جمعہ کو علی الصباح نشر ہونے والے اپنے خطاب میں حالات کو پرسکون بنانے کی کوشش کی تاہم ملک میں آج پھر سے مظاہرین کے سڑکوں پر نکل آنے کے امکان کے پیش نظر سیکورٹی فورسز ہائی الرٹ ہیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گذشتہ تین روز کے دوران سیکورٹی فورسز کی جانب سے براہ راست فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں 31 افراد ہلاک اور 1188 زخمی ہوئے۔

دسری جانب عادل عبدالمہدی نے اپنے خطاب میں قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ وزارتی تبدیلیوں کے لیے عراقی وزیراعظم کو سپورٹ کریں۔ انہوں نے تین روز کے خون ریز انتشار کے بعد حالات پر سکون بنانے کا مطالبہ کیا۔ جمعے کو سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے خطاب میں عبدالمہدی کا کہنا تھا کہ "ہم پارلیمنٹ اور سیاسی قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ وزارتی تشکیل اور وزارتی سطح پر ترامیم کو پورا کرنے کے لیے کابینہ کے سربراہ (وزیراعظم) کو اختیار دینے کے حوالے سے پوری پاسداری کریں تا کہ سیاسی کوٹے سے دور رہ کر اس عمل کو یقینی بنایا جا سکے"۔

عبدالمہدی نے مزید کہا کہ عراق میں حکومتی مشکلات اور دیرینہ اختیارات کے استحصال کا "کوئی جادوئی حل" نہیں پایا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس عزم کا اعلان کیا کہ وہ ایک قانون کی منظوری کی کوشش کریں گے جس کے ذریعے غریب خاندانوں کو بنیادی معاوضہ پیش کیا جا سکے اور ہر عراقی خاندان باعزت طور پر گزر بسر کر سکے۔

عراقی وزیراعظم نے مظاہرین کو مخاطب کر کے کہا کہ "مظاہروں سے پہلے ہی آپ کی آواز سنی جا چکی ہے‘‘۔ بدعنوانی سے لڑنے اور جامع اصلاحات کے حوالے سے آپ کے مطالبات جائز ہیں"۔

یاد رہے کہ ملک میں چھایا ہوا کوٹا سسٹم، بدعنوانی اور بعض مذہبی جماعتوں اور ملیشیا کے بیچ اختیارات کی بندر بانٹ ابھی تک ریاست کے قیام اور مؤثر صورت تیزی سے کام کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

گذشتہ دہائیوں کے دوران فرقہ وار لڑائی، غیر ملکی قبضے، امریکی حملے، غیر ملکی پابندیوں اور پڑوسیوں کے ساتھ جنگوں نے عراق کے اندر انفرااسٹرکچر کو ڈھیر کر دیا ہے۔ ملک کو کسی حد تک امن و امان اور تجارت کی آزادی کی نعمتیں ملنے کے بعد اب بھی بہت سے عراقیوں بالخصوص نوجوانوں کو شکوہ ہے کہ ان کی حکومت ریاست کی تعمیر نو میں ناکام ہو چکی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ( IMF )کے مطابق عراق دنیا میں تیل کے چوتھے بڑے ذخائر کا مالک ہے تاہم 4 کروڑ کی آبادی والے اس ملک کے زیادہ تر لوگ غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان لوگوں کو صحت ، تعلیم، بجلی اور پانی کی خدمات مناسب طور میسر نہیں۔