.

خامنہ ای کے مندوب کی عراقی مظاہرین کو امریکی سفارت خانے پر حملے کی ترغیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں جاری عوامی مظاہروں کے دوران اب تک 100 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور دوسری طرف ایرانی حکومت عراق میں جاری عوامی احتجاج کو 'فسادات' کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایرانی میڈیا میں بھی عراق میں ہونے والے احتجاج کو 'فسادات' کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

اسی ضمن میں سرکاری اخبار ’کیہان‘ کے مطابق ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ کے نمائندے حسین شریعتمداری نے ہفتے کے روز ایک مضمون میں عراقیوں سے مطالبہ ہے کہ وہ امریکی سفارت خانہ پر قبضہ کریں جیسے 1979 میں ایرانیوں نے کیا تھا۔

شریعتمداری نے مظاہرین پر تہران کی حامی جماعتوں کے الزامات کا اعادہ کیا اور یہ دعوی کیا کہ یہ احتجاج امریکا اور بیرونی قوتوں کے ذریعے شروع کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا عراق میں حالیہ بدامنی میں غیر ملکی ہاتھ واضح ہیں۔ شہریوں کو سفارت خانہ پر قبضہ کرنا ہو گا کیونکہ یہ جاسوسی کا اڈا ہے۔

شریعتمداری نے یہ بھی کہا کہ بیرونی عناصر نے عراقی اور ایرانی حکومتوں کے اتحاد کے خلاف مظاہرے کی ہدایت کی۔

اُنہوں نے کہا عراق میں عوامی مظاہرے ایران میں ہونے والے مظاہروں کے مماثل ہیں جس کا مقصد ملک کو افراتفری سے دوچارکرنا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے عراق میں ہونے والے مظاہروں کو "بدامنی" قرار دیتے ہوئےعراقیوں سے غیر ملکیوں کی استحصالی مداخلت کے خلاف بھرپور جدوجہد پر زور دیا۔

عراق میں مظاہرین کے بنیادی مطالبات مُلک میں مالی بدعنوانی کے پھیلاؤ اور عوامی پیسوں کی لوٹ مار پر مرکوز ہیں۔ عراق دُنیا میں تیل کا تیسرا برآمد کنندہ ہے مگر اس کے باوجود ملک میں بے روزگاری، صحت اور تعلیمی کی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔

مبصرین کے مطابق ایران کو خدشہ ہے کہ یہ احتجاج سیاسی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔