.

عراقی کابینہ میں ردوبدل پر غور کیا جاسکتا ہے: اسپیکر پارلیمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی پارلیمان کے اسپیکر محمد الحلبوسی نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم عادل عبدالمہدی تقاضا کرتے ہیں تو ان کی کابینہ میں ردو بدل پر غور کیا جائے گا۔

محمد الحلبوسی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں مظاہرین اور سکیورٹی افسروں پر حملوں کے کیسوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی کرپٹ عہدے دار کو جیل میں جانا چاہیے۔

انھوں نے واضح کیا کہ مظاہرین کی کوئی سیاسی گروہ حمایت نہیں کررہا ہے لیکن ان میں بعض ’’درانداز‘‘ گھس بیٹھے ہیں۔

انھوں نے مظاہرین کو ہفتے کے روز پارلیمان کے نمایندوں کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن وہ شریک نہیں ہوئے۔اب انھوں نے مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ آیندہ اجلاس میں شرکت کریں اور اپنے مطالبات پیش کریں۔

محمدالحلبوسی نے اعلان کیا کہ ’’اگر مظاہرین کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوجائیں گے اور سڑکوں پر آ کر مظاہرے کریں گے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کی سرگرمیوں میں شرکت معطل کرنے والے سیاسی بلاکوں کو اب اپنی سرکاری ذمے داریوں کو دوبارہ سنبھال لینا چاہیے کیونکہ حکومت نے مظاہرین کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے اصلاحات کے ایک پروگرام کا اعلان کیا ہے۔

عراق کے جن سیاسی بلاکوں نے پارلیمان کی سرگرمیوں میں شرکت معطل کررکھی ہے، ان میں بااثر شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کا سائرون بلاک بھی شامل ہے۔اس نے گذشتہ جمعہ کو اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔مقتدیٰ الصدر نے کہا تھا کہ حکومت جب تک مظاہرین کے مطالبات کو پورا نہیں کرتی ہے، وہ اس وقت معطلی کا فیصلہ واپس نہیں لیں گے۔

محمد الحلبوسی کا کہنا تھا کہ وہ مقتدیٰ الصدر کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں لیکن حکومت کو اصلاحات کے پروگرام پر عمل درآمد کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے۔

ہزاروں عراقی شہری گذشتہ منگل سے دارالحکومت بغداد اور دوسرے شہروں میں ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ، شہری خدمات کے پست معیار اور سرکاری حکام کی بدعنوانیوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے اس عوامی احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے طاقت کا بے مہابا استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں چھے روز میں ایک سو بیس سے زیادہ افراد ہلاک اور کم سے کم چار ہزار زخمی ہوگئے ہیں۔ مظاہرین وزیراعظم عادل عبدالمہدی سےاپنے انتخابی وعدے کے مطابق وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔