.

عراق میں احتجاجی مظاہروں کے بعد وزیراعظم کا قانونی اور مالیاتی اصلاحات کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے ملک گیر پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد وسیع تر اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ ان کے تحت بے روزگار نوجوانوں کو ملازمتیں دی جائیں گی اور کم آمدن والے شہریوں کو رہائشی اراضی الاٹ کی جائے گی۔

وزیراعظم نے ایک نشری بیان میں تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا ہے کہ ’’وہ ملک میں اصلاحات کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی غرض سے حکومت سے تعاون کریں۔‘‘

عراقی وزیراعظم کی اعلان کردہ اصلاحات کے تحت کم آمدنی والے مکین رہائشی اراضی کے لیے درخواست دے سکیں گے اور اس فیصلے کا اطلاق ملک بھر میں ہوگا۔ان اصلاحات کے تحت مستحقین میں اقامتی پلاٹ تقسیم کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ خریداروں کی تعداد میں اضافے کے لیے سود سے پاک قرض حسنہ دینے کے پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ڈیڑھ لاکھ بے روزگاروں کو مختلف مالی فوائد دیے جائیں گے اور نوجوانوں کو ملازمتوں کے مزید مواقع مہیا کیے جائیں گے۔

عادل عبدالمہدی نے حکومت کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یہ بھی اعلان کیا کہ کرپٹ حکام کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ احتجاجی ریلیوں کے دوران میں ہلاک شدہ مظاہرین اور سکیورٹی حکام کو شہید سمجھا جائے گا اور ان کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ وزارتِ صحت احتجاجی مظاہروں کے دوران میں زخمی ہونے والے افراد کو مفت طبی خدمات مہیا کرے گی۔

عادل عبدالمہدی نے کہا کہ حکومت آیندہ اجلاسوں کے دوران میں مزید اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔فی الوقت قانون سازی ، مالیات اور انتظامی شعبوں میں اصلاحات کے لیے متعدد تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

ہزاروں عراقی شہری گذشتہ منگل سے دارالحکومت بغداد اور دوسرے شہروں میں ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ، شہری خدمات کے پست معیار اور سرکاری حکام کی بدعنوانیوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے اس عوامی احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے طاقت کا بے مہابا استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں چھے روز میں ایک سو بیس سے زیادہ افراد ہلاک اور کم سے کم چار ہزار زخمی ہوگئے ہیں۔ مظاہرین نے ملک کو درپیش گوناگوں مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم عادل عبدالمہدی سےاپنے انتخابی وعدے کے مطابق وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔