.

حزب اللہ عراق اور لبنان کے مظاہروں سے سخت پریشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آ رہا ہے کہ حزب اللہ تنظیم لبنان کے مختلف علاقوں میں منتقل ہوتے احتجاجی مظاہروں سے شدید طور سے تنگ آ چکی ہے اگرچہ تنظیم اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہ کر مظاہروں اور آزادی اظہار کے حق کے ساتھ ہے۔ یہ مظاہرے لبنانی عوام کو درپیش دشوار معاشی صورت حال اور مشکل حالات زندگی کے خلاف ہو رہے ہیں۔ اسی طرح عراق میں جاری مظاہروں سے بھی حزب اللہ کو تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ تنظیم کو اس احتجاج کے وسیع ہونے اور پھیل جانے کا خوف ہے۔ بالخصوص بعض مظاہروں میں عراق کے اندر ایرانی وجود کی مذمت میں آوازیں بلند ہو چکی ہیں۔

اس حوالے سے حزب اللہ کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ محمد رعد نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ "ان دنوں عراق میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ استحکام کو برباد کرنے کے واسطے ہے۔ اگر عراقی عوام کے اندر مزاحمت کی روح نہ ہوتی تو ایسا کبھی دیکھنے میں نہ آتا مگر امریکی یہ چاہتے کہ عراق خود مختار نہیں بلکہ اس کے مفادات کے لیے خادم کی حیثیت سے کام کرے"۔

عراق میں وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی حکومت کا ایک سال پورا ہونے پر ملک میں اقتصادی صورت حال اور بدعنوانی پر احتجاج کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے جاری ہیں۔

دوسری جانب لبنان میں البقاع کے شیعہ اکثریتی علاقے میں حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق میئر احمد اسماعیل نےMessenger کے ذریعے بھیجے گئے سلسلہ وار پیغامات میں اپنے ٹاؤن کے نوجوانوں کو برا بھلا کہتے ہوئے انہیں "داعش" قرار دیا ہے۔ ان نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیجز پر عراقی عوام کی جانب سے بدترین معاشی حالات اور ایرانی وجود کے خلاف مظاہروں کے حوالے سے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا تھا۔

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے پیر کے روز اپنے ٹویٹر اکاؤنت پر باور کرایا کہ ایرانیوں اور عراقیوں کے درمیان تعلق "ہر دن کے ساتھ مزید معتبر" ہو رہا ہے۔ عراق کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ "دشمن ایرانیوں اور عراقیوں میں تفرقہ ڈالنے کی پوری کوشش کر رہا ہے مگر وہ قاصر رہا اور اس کی سازش کا ہر گز کوئی اثر نہ ہو گا"

عراق کے مظاہروں کے لیے حزب اللہ اور اس کے عہدے داران کی جانب سے تنگی اور جھنجلاہٹ کے تانے بانے کچھ عرصے سے بیروت میں دیکھے جانے والے احتجاجی سلسلے سے ملتے ہیں۔ یہ احتجاج لبنان میں خراب معاشی صورت حال کے خلاف ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے حزب اللہ کے لیے سب سے زیادہ "پریشان کن" بات یہ ہے کہ لبنان میں احتجاج کی یہ چنگاری البقاع کے علاقے سے بھڑکی ہے جو حزب اللہ کے لیے مقبولیت کا ایک بنیادی گڑھ شمار کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر زیر گردش اطلاعات کے مطابق البقاع میں مظاہرین کی جانب سے دھرنے کے دوران حزب اللہ کا پرچم بھی نذر آتش کیا گیا کیوں کہ تنظیم کو اقتدار اور حکومت میں بنیادی شریک سمجھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت میں حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے تین وزراء شامل ہیں۔