.

عراق کے الصدر شہر میں پولیس اور مظاہرین میں تصادم،8 افراد ہلاک، 25 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بغداد کے مشرق میں واقع صدر شہر میں مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں کے دوران 8 افراد ہلاک جبکہ 25 کے قریب زخمی ہوگئے۔ خبر رساں ادارے'رائیٹرز' نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اتوار کے روز الصدر شہر میں پولیس اور مظاہرین کےمابین ہونے والے خون ریز تصادم میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتالوں میں لایا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان سعد معن الموسوی نے کہا تھا کہ اس سے قبل ملک میں مظاہروں کے دوران 104 افراد ہلاک اور 6000 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کے 8 اہلکار ہلاک ہوئے جب کہ مظاہرین نے 51 عوامی عمارتوں اور آٹھ سیاسی جماعتوں کے صدر دفاتر کو آگ لگا دی۔

سعد معن الموسوی نے عراق میں دفاع ، داخلہ ، صحت اور مشترکہ آپریشن کی وزارتوں کے ترجمانوں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مظاہرین کو نشانہ بنانے کے پیچھے بدنیتی پر مبنی ہاتھ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پرتشدد مظاہروں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہوسکتا ہے، اس کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

میڈیا چینلز کے دفاتر پر حملے

ترجمان نے بتایا کہ عراقی وزارت داخلہ نے میڈیا چینلز کے دفاتر پر حملوں کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ہم یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ عراق میں احتجاج کی آڑ میں تخریب کاری اور توڑپھوڑ کے پیچھے کون ہے۔

قبل ازیں عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے ملک گیر پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد وسیع تر اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ ان کے تحت بے روزگار نوجوانوں کو ملازمتیں دی جائیں گی اور کم آمدن والے شہریوں کو رہائشی اراضی الاٹ کی جائے گی۔

وزیراعظم نے ایک نشری بیان میں تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا ہے کہ ’’وہ ملک میں اصلاحات کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی غرض سے حکومت سے تعاون کریں۔‘‘

عراقی وزیراعظم کی اعلان کردہ اصلاحات کے تحت کم آمدنی والے مکین رہائشی اراضی کے لیے درخواست دے سکیں گے اور اس فیصلے کا اطلاق ملک بھر میں ہوگا۔ان اصلاحات کے تحت مستحقین میں اقامتی پلاٹ تقسیم کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ خریداروں کی تعداد میں اضافے کے لیے سود سے پاک قرض حسنہ دینے کے پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ڈیڑھ لاکھ بے روزگاروں کو مختلف مالی فوائد دیے جائیں گے اور نوجوانوں کو ملازمتوں کے مزید مواقع مہیا کیے جائیں گے۔

عادل عبدالمہدی نے حکومت کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یہ بھی اعلان کیا کہ کرپٹ حکام کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ احتجاجی ریلیوں کے دوران میں ہلاک شدہ مظاہرین اور سکیورٹی حکام کو شہید سمجھا جائے گا اور ان کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ وزارتِ صحت احتجاجی مظاہروں کے دوران میں زخمی ہونے والے افراد کو مفت طبی خدمات مہیا کرے گی۔

عادل عبدالمہدی نے کہا کہ حکومت آیندہ اجلاسوں کے دوران میں مزید اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔فی الوقت قانون سازی ، مالیات اور انتظامی شعبوں میں اصلاحات کے لیے متعدد تجاویز پیش کی گئی ہیں۔