.

ترکی شام سرحد پر طبل جنگ ، کرد خود مختار انتظامیہ کا نفیر عام کا علان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال میں کردوں کی خود مختار انتظامیہ نے ملک کے شمالی اور مشرقی حصے میں تین روز کے لیے نفیر عام کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ بات شام میں العربیہ کے نمائندے نے بتائی۔ کرد انتظامیہ کا یہ اقدام انقرہ کی جانب سے بدھ کو علی الصبح اس اقدام کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شام کے شمال میں فوجی آپریشن آئندہ چند گھنٹوں میں شروع ہو جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق کردوں کی خود مختار انتظامیہ نے شام کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں 3 روز کے لیے نفیر عام کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے اپنے تمام اداروں کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ ترک فورسز کا مقابلہ کرنے کے لیے متوازی سرحدی علاقے کا رخ کریں۔

کرد خود مختار انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ شام کے شمال اور مشرق میں کردوں کو پیش آنے والے کسی بھی انسانی المیے کی تمام تر اخلاقی اور جذباتی ذمے داری اقوام متحدہ ، امریکا، یورپی یونین، روس اور شام کے معاملے میں فیصلوں اور اثر و نفوذ رکھنے والے تمام اداروں پر عائد ہو گی۔

یاد رہے کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے بدھ کو علی الصبح بین الاقوامی اتحاد سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں فضائی حدود پر پابندی لگا دے۔ یہ مطالبہ ترکی جانب سے شام کی سرحد پر بھاری پیمانے پر عسکری کمک مع کرنے کے بعد سامنے آیا۔

اس سے قبل ترکی میں صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر کمیونی کیشن فخر الدین التون نے بدھ کو علی الصبح اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ترکی کی فوج "کچھ دیر بعد" شامی جیشِ حُر کے ساتھ شام کی سرحد عبور کرنے والی ہے تا کہ علاقے میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا جا سکے۔ التون نے مزید کہا کہ "وہاں موجود کرد جنگجوؤں کو اپنی وفاداریاں تبدیل کرنا ہوں گی بصورت دیگر ترکی اس بات پر مجبور ہو جائے گا کہ ان لوگوں کو داعش تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف انقرہ کی کوششوں میں تعطل پیدا کرنے سے روکے"۔

یاد رہے کہ ترکی کے جاسوس نگراں طیارے بدھ کو صبح سویرے سے شام کے شہر تل ابيض کی فضاؤں میں پرواز کر رہے ہیں۔ ادھر ایس ڈی ایف کے قریبی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ترکی کا حملہ تل ابیض اور راس العین کے علاقوں سے شروع ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) کی جانب سے فضائی حدود بند کرنے کے اعلان کے باوجود وہ ترکی کے لیے کھلی رہے گی۔

واضح رہے کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز پہلے ہی خبردار کر چکی ہیں کہ ایک "انسانی المیہ" واقع ہونے کے قریب ہے۔ ایس ڈی ایف کے ترجمان مصطفی بالی نے ٹویٹر پر جاری ایک بیان میں کہا کہ "شام میں شمال مشرقی سرحدی علاقے جلد ممکنہ انسانی المیے کے دہانے پر ہیں۔ تمام تر اشارے اس بات کا پتہ دے رہے ہیں کہ ہمارے سرحدی علاقوں کو ترکی کے حملے کا نشانہ بنایا جائے گا اور اس کارروائی میں انقرہ کو ترکی کے ہمنوا شامی مسلح گروپوں کی معاونت حاصل ہو گی"۔