.

حکومتی کارکردگی کی بہتری کے لیے عراقی صدر کا وزارتی تبدیلیوں کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صدر برہم صالح کا کہنا ہے کہ انہوں نے یکم اکتوبر سے ملک میں جاری مظاہروں کے دوران احتجاج کنندگان پر حملوں کی فوری تحقیقات کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ صدر نے وزارتی سطح پر تبدیلیوں کا بھی مطالبہ کیا تا کہ حکومت کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔

عراقی خبر رساں ایجنسی نے بدھ کے روز صدر کے میڈیا بیورو کی طرف سے جاری بیان کے حوالے سے بتایا کہ برہم صالح نے پُر امن مظاہرین اور امن عامہ کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مزید خون ریزی کو روکا جائے۔ عراقی صدر کا یہ موقف ملک کے کئی صوبوں کے گورنروں سے ملاقات کے بعد سامنے آیا۔

برہم صالح نے مظاہروں کے دوران احتجاج کنندگان پر حملوں کے حوالے سے فوری تحقیقات پر زور دیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ سیکورٹی فورسز اور املاک عامہ کو بھی نشانہ بنانے سے روکے جانے کی ضرورت ہے۔ عراقی صدر کے مطابق متاثرین کو زرتلافی کے طور پر معاوضہ دیا جائے گا اور ان مجرموں کا احتساب ہو گا جنہوں نے قانون کے دائرے سے باہر مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔

یاد رہے کہ حکومت مخالف مظاہروں میں درجنوں افراد کی ہلاکت اور سیاسی بحران کے جنم لینے کے بعد عراقی صدر کا کہنا تھا کہ ملک کو "قومی مکالمے" کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ نے عوام کے اندر پھیلی بے چینی اور گھٹن کو ختم کرنے کے لیے کئی فیصلوں اور اصلاحات کی منظوری دی۔

ادھر عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی منگل کے روز پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی ، کابینہ ، قبائلی عمائدین اور ملک کے چیف جسٹس کے ساتھ طویل ملاقاتیں ہوئیں۔ ملاقاتوں میں عوامی مظاہروں کا موضوع زیر بحث رہا۔ وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں باور کرایا گیا کہ ایک ہفتے تک خون ریز مظاہروں کے بعد زندگی معمول کی جانب لوٹ گئی ہے۔

یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں ملک کے اندر پھیلی بدعنوانی اور دیرینہ بے روز گاری کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد ازاں یہ احتجاج ملک کے سیاسی نظام کی مکمل اصلاح کے مطالبات میں تبدیل ہو گیا۔

غیر معمولی نوعیت کے یہ مظاہرے نہایت خون ریز ثابت ہوئے۔ یکم اکتوبر سے ایک ہفتے تک جاری مظاہروں میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک اور 6 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔