.

شام میں فوجی آپریشن کچھ دیر بعد شروع ہو جائے گا : ایردوآن کے معاون کی ٹویٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر کمیونی کیشن فخر الدین التون کا کہنا ہے کہ ترکی کی فوج "کچھ دیر بعد" شامی جیشِ حُر کے ساتھ شام کی سرحد عبور کرنے والی ہے تا کہ علاقے میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا جا سکے۔

بدھ کو علی الصبح اپنی ٹویٹ میں التون نے کہا کہ "وہاں موجود کرد جنگجوؤں کو اپنی وفاداریاں تبدیل کرنا ہوں گی بصورت دیگر ترکی اس بات پر مجبور ہو جائے گا کہ ان لوگوں کو داعش تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف انقرہ کی کوششوں میں تعطل پیدا کرنے سے روکے"۔

دوسری جانب سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ترکی کی فوج کے شامی اراضی میں داخل ہونے کی صورت میں انسانی المیہ جنم لے گا۔

اس سے قبل ترکی نے اعلان کیا تھا کہ وہ جلد ہی شمالی شام میں ایک فوجی آپریشن شروع کرے گا۔ اس دوران امریکی فورسز نے شام میں ترکی کی سرحد کے نزدیک بعض چیک پوائنٹس کو خالی کر دیا جب کہ ایس ڈی ایف نے امریکی اقدام کی مذمت کی۔

ادھر ترکی کی پارلیمنٹ میں حکومت کے اختیارات میں ایک سال کی توسیع کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ اس کے تحت ترکی کو سیکورٹی خطرات درپیش ہونے پر حکومت عراق اور شام میں سرحد پار حملوں کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔

اس دوران امریکی ریپبلکن سینیٹر لینڈسے گراہم نے انقرہ کو دھمکی دی ہے کہ شمالی شام میں متحرک ہونے کی صورت میں ترکی پر وسیع اور تباہ کن پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔