.

عراقی وزیراعظم کا پُرتشدد مظاہروں کے بعد کابینہ میں تبدیلیوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے ملک گیر پُرتشدد مظاہروں کے بعد اپنی کابینہ میں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے اور وہ پارلیمان میں وزراء کی ایک نئی فہرست منظوری کے لیے پیش کررہے ہیں۔

انھوں نے مظاہرین کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے بدعنوان سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمات چلانے کا بھی اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ان سیکڑوں بدعنوان سرکاری حکام کے نام تحقیقات کے لیے عدلیہ کو بھیجے جائیں گے۔

عراق کے دارالحکومت بغداد اور دوسرے شہروں میں گذشتہ ہفتے عشرے کے دوران میں پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں ایک سو دس افراد ہلاک اور چھے ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔مظاہرین حکومت سے بے روزگاری کے خاتمے ، شہری خدمات کے پست معیار کو بہتر بنانے اور بدعنوان حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے تھے۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے اس احتجاجی تحریک پر قابو پانے کے لیے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔عراقی شہریوں نے ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں پر مظاہرین کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا ہے۔

یہ بات ابھی تک معما بنی ہوئی ہے کہ مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا تھا؟ خود وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے بدھ کی شب ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’ہم نے براہ راست گولی نہ چلانے کا واضح حکم دیا تھا لیکن اس کے باوجود فائرنگ کے نتیجے میں لوگ ہلاک اور مجروح ہوئے ہیں۔‘‘

ان احتجاجی مظاہروں کا مرکز دارالحکومت بغداد تھااور اس کے مختلف حصوں میں خونریز احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ہیں۔اس کے علاوہ جنوبی شہروں ناصریہ ، نجف اور بصرہ میں بڑے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں اور ان ہی شہروں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

عراقی حکام نے بغداد میں بد امنی کو پھیلنے سے روکنے کے لیے انٹر نیٹ تک رسائی بھی محدود کردی تھی تاکہ مظاہرین ایک دوسرے کے ساتھ سوشل میڈیا پر پیغام رسانی نہ کرسکیں اور وہ تشدد کا شکار ہونے والے افراد کی تصاویر اور ویڈیوز بھی پوسٹ نہ کرسکیں۔

عراق کے نیم سرکاری ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں آٹھ سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا،ان میں سے قریباً پانچ سو کو رہا کیا جاچکا ہے۔

عراق میں ان مظاہروں کے دوران میں مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے بعض صحافیوں کو بھی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے اور انھیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ مظاہروں کی کوریج نہ کریں۔انٹرنیٹ کی بندش کے بعد ٹیلی ویژن پر بھی ان مظاہروں کی بہت کم کوریج کی گئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے عراقی مظاہرین کے خلاف حالیہ تشدد کی مذمت کی ہے۔انھوں نے وزیراعظم عادل عبدالمہدی پر زوردیا ہے کہ وہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں،مظاہرین کے تحفظات پر کان دھریں اور ان کے مطالبات کو پورا کریں۔