.

شام میں ترکی کی فوج کشی خطے کی سلامتی کے لیے تباہ کن ہے:مصر، اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر اور اردن نے شام میں کرد فورسز کے خلاف ترکی کی طرف سے کی گئی فوجی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعرات کو اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے مصر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔

اس موقعے پر بات کرتے ہوئے مصری صدر السیسی نے کہا کہ وہ شمال مشرقی شام میں ترک فوجی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس کارروائی سے پورے خطے کے امن اور استحکام پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم جو اس وقت قاہرہ کا دورہ کررہے ہیں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ترکی کی جارحیت سے پورے خطے میں استحکام اور سلامتی متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت اس کارروائی کا کوئی جواز نہیں۔ شام میں ترک فوک کشی شام کی وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچائے گی۔ انہوں نے شام کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 پر عمل درآمد پر زورع دیا۔

مصری ایوان صدر کے ترجمان بسام ارضی نےکہا کہ صدر السیسی اور اردنی فرما کے درمیان بات چیت میں خطے کی تازہ ترین پیشرفت ، خاص طور پر فلسطین کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہ نمائوں نے فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق اور مطالبات کی حمایت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ چار جون 1967ء کے مقبوضہ عرب علاقوں پرمشتمل فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے جس میں مشرقی بیت المقدس کو اس کے دارالحکومت کا درجہ حاصل ہو۔

اس موقع پر اردنی فرمانروا نے ترکی پر زور دیا کہ وہ شام میں فوج کشی کے بجائے مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرے۔