.

شام : ترکی کے ہمنوا مسلح اپوزیشن گروپ 30 کلو میٹر اندر پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق ترکی کے حمایت یافتہ شامی مسلح گروپ ہفتے کے روز ملک کے شمال مشرقی سرحدی علاقے میں 30 کلو میٹر تک اندر پہنچے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک مرکزی شاہراہ کو بلاک کر دیا ہے اور تل تمر، الرقہ اور عین عیسی کو علاحدہ کرنے والی ایک چیک پوسٹ پر قبضہ کر لیا۔

نمائندے نے مزید بتایا کہ مذکورہ چیک پوسٹ پر کنٹرول حاصل کرنے میں غیر فعال ٹولیوں نے ترکی کے ہمنوا گروپوں کی معاونت کی۔ ادھر راس العین میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) شدید معرکہ آرائی میں مصروف ہے جب کہ اقوام متحدہ کی نیم مفقود کوششوں کے بیچ شہریوں کو الم ناک صورت حال کا سامنا ہے۔

اس سے قبل شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد نے آج ہفتے کے روز بتایا کہ بدھ کے روز ترکی کے حملے کے آغاز کے بعد سے اب تک کردوں کے زیر قیادت سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے 74 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر تل ابیض میں مارے گئے۔ اس دوران ترکی جانب سے تل ابیض اور راس العین پر شدید گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن کے مطابق ترکی کا حالیہ فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے انقرہ کے حمایت یافتہ شامی اپوزیشن کے گروپوں سے تعلق رکھنے والے 49 مسلح عناصر بھی لڑائی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

رامی نے مزید بتایا کہ شام میں جاری حالیہ معرکہ آرائی میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 20 ہو گئی ہے۔ ان میں زیادہ تر افراد سرحدی قصبے تل ابیض میں مارے گئے۔