.

داعش کے خاندانوں کا ایس ڈی ایف کے زیر اہتمام کیمپ سے فرار، شامی حکومت سے ڈیل کی خبریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مشرقی قصبے عین عیسیٰ میں واقع ایک کیمپ کے نزدیک ترک فوج اور اس کے شامی اتحادیوں کی گولہ باری کے بعد سخت گیر جنگجو گروپ داعش سے تعلق رکھنے والے بعض خاندانوں کو وہاں سے راہِ فرار کا موقع مل گیا ہے۔شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کے زیر اہتمام اس کیمپ میں دربدر ہونے والے شامی رہ رہے ہیں اور ان میں داعش کے خاندانوں کے ہزاروں ارکان بھی شامل ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق اس کیمپ سے داعش کے خاندانوں کے قریباً ایک سو افراد راہ فرار اختیار کرگئے ہیں۔

عینِ عیسیٰ کا کیمپ شام کے مشرقی شہر الرقہ کے شمال میں واقع ہے۔اس مشرقی علاقے اور اس سے متصل شمال مشرقی شہروں اور قصبوں کا انتظام کردوں کی قیادت میں انتظامیہ کے پاس ہے۔

شمالی اور مشرقی شام کی اس خودمختار انتظامیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ، داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد ، عرب لیگ اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی نئی تباہی سے بچنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔

دوسری جانب ایک مقامی خبری ذریعے ’’فرات پوسٹ‘‘ نے اتوار کو یہ اطلاع دی ہے کہ ایس ڈی ایف نے دیر الزور میں شام کی سرکاری فورسز کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت داعش کے ایک لیڈر عمرالموری کو رہا کردیا ہے۔وہ ابوبکر الحمصی یا ابوبکر القریتن کے نام سے بھی معروف ہیں۔انھیں کوئی ایک ہفتہ قبل رہا کیا گیا تھا اور وہ چند روز قبل وہاں سے دمشق روانہ ہوگئے تھے۔

داعش کے اس لیڈر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شامی حکومت کی فورسز اور اپنے جنگجو گروپ کے درمیان تیل کی تجارت کے معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرتے رہے تھے۔وہ شامی رکن پارلیمان حسام القطرجی سے براہ راست رابطے میں تھے۔ حسام امریکا کی پابندیوں کی زد میں آنے والی ایک شامی کمپنی کے حصص دار ہیں۔امریکا نے داعش کے ساتھ تجارت کے الزام میں اس کمپنی پر پابندیاں عاید کی تھیں۔