.

بشار کی فوج سرحد پر پہنچ گئی ، ترکی نے جھڑپوں سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی شام میں کرد خود مختار انتظامیہ نے اتوار کے روز شامی حکومت کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے کا اعلان کیا۔ اس سمجھوتے کے تحت شامی حکومت کی فوج ترکی کے ساتھ سرحد پر تعینات کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ترکی کی افواج اور شامی سملح اپوزیشن گروپوں کی جانب سے 6 روز سے جاری حملے کو روکنا ہے۔ شامی حکومت کے ہمنوا میڈیا کے مطابق گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران عسکری قافلے شمالی شام کے علاقوں کی جانب جاتے نظر آئے۔

دوسری جانب ترکی کے صدر کے مشیر یاسین اقطائی نے شام کے شمال مشرق میں بشار حکومت کی فورسز اور ترکی کی افواج کے درمیان جھڑپوں کے شروع ہونے سے خبردار کیا ہے۔

اقطائی نے اتوار کی شب روسی خبر رساں ایجنسی اسپٹنک کو دیے گئے خصوصی بیان میں کہا کہ "اگر شامی حکومت کی فوج نے شمال مشرقی شام میں ترکی کے سامنے کھڑے ہو کر مزاحمت کی تو دونوں افواج کے بیچ جھڑپیں ہو سکتی ہیں"۔

کرد خود مختار انتظامیہ نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ شامی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ انتظامیہ نے فیس بک پر اپنے پیج پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ یہ معاہدہ ترکی اور اس کے ہمنوا مسلح گروپوں کے حملے کو روکنے کے واسطے طے پایا ہے تا کہ شامی فوج شام اور ترکی کی سرحد پر تعینات ہو جائے اور ان علاقوں کو آزاد کرایا جا سکے جہاں ترکی اور اس کے اجرتی جنگجو داخل ہو چکے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ سمجھوتا اس بات کا بھی موقع دے گا کہ ترکی کی افواج کی جانب سے پہلے سے قبضہ کی گئی شامی اراضی اور اس کے شہروں کو بھی آزاد کرا لیا جائے۔ ان میں حلب کے شمال مغرب میں واقع عفرین کا علاقہ شامل ہے۔