.

تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانا سعودی عرب کی روش نہیں: عادل الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے زور دیا ہے کہ ایرانی تیل بردار جہاز "سبیٹی" کے ساتھ پیش آنے والے اصل واقعے کو جاننے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔ انہوں نے باور کرایا کہ تہران نے جمعے کے روز بحیرہ احمر میں مذکورہ تیل بردار جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی جوکہانی پیش کی ہے وہ نا مکمل ہے۔

ریاض میں وزارت خارجہ کے صدر دفتر میں اتوار کے روز میڈیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے ایک ملاقات میں الجبیر نے واضح کیا کہ مملکت نے کبھی اس طرح کی روش نہیں اپنائی (ان کا اشارہ تیل بردار جہاز کو نشانہ بنانے کی جانب تھا)... اور یہ وہ طریقہ نہیں جس پر مملکت عمل پیرا ہے۔

سعودی عرب نے دو روز قبل ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا جن میں کہا گیا کہ مملکت کے ساحل کے نزدیک بحیرہ احمر میں ایرانی تیل بردار جہاز "سبیٹی" پر میزائل حملے میں سعودی عرب کا ہاتھ ہے۔ سعودی عرب کے مطابق مذکورہ جہاز نے اس سے مدد مانگی تھی تاہم امدادی اقدام سے پہلے ہی جہاز آگے چلا گیا اور اس نے اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا۔

سعودی عرب نے یہ بھی باور کرایا کہ وہ سمندری جہاز رانی کے امن و سلامتی کا خواہاں ہے اور اس واسطے بین الاقوامی سمجھوتوں کا پابند ہے۔