.

سعودی عرب میں دنیا کی 'معلق مسجد' کا منفرد منصوبہ کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ سے کچھ فاصلے پر ایک بلند وبالا عمارت پر معلق مسجد تعمیر کی جا رہی ہےجو نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری دنیا میں اپنی نوعیت کی منفرد مسجد ہوگی۔ یہ مسجد مسجد حرام سے 161 میٹر بلند اور 400 مربع میٹر پرمحیط ہوگی جس میں 200 افراد نماز ادا کرسکیں گے۔ معلق مسجد کو براہ راست حرم مکی کے آڈیو اور ویڈیوسسٹم کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملنے والی تفصیلات کے مطابق شاہ عبدالعزیز ہائی وے پر مسجد حرام سے کچھ فاصلے پردو جڑواں ٹاور بنائے گئے ہیں۔ ان دونوں کچیر منزلہ عمارتوں کو باہم مربوط کرنے کے لیے ایک مسجد نما پل بنایا گیا ہے۔ اس کا ڈیزائن اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اس پل کا 50 فی صد نماز اور باقی پچاس فی صد دیگر سروسز کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ مکہ میں منفرد معلق مسجد کی ذمہ دار تعمیراتی فرم کے ڈیزائن ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹ اور مکہ چیمبر میں رئیل اسٹیٹ کمیٹی کے چیئرمین انجینیرانس صیرفی نے بتایا کہ یہ منصوبہ فی الحال زیرتکمیل ہے جو چھ ماہ کے اندر مکمل ہوجائے گا۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس پل پر آب و ہوا اور قدرتی مناظر، خانہ کعبہ ، حرم مکی اور مکہ معظمہ کے ایک وسیع علاقے کو دیکھنے اور مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔ صیرفی کا کہنا تھا کہ اس منصوبے پرکام شروع کرنے سے قبل اس کے بہت سے پہلوئوں پر باریک بینی سے غور کیا گیا۔ معلق مسجد کی آب وہوا، زلزلہ پروف بنانے، درجہ حرارت اور مسجد تک پہنچنے کے لیے لفٹوں سمیت دیگر تمام امور پربارکی کے ساتھ غور کیا گیا۔