.

قطر ایک بار پھر عرب کیمپ سے باہر نکل کر ترکی اور ایران کے دفاع میں پیش پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے ایک بار پھر عرب لیگ کے اُس متفقہ موقف کے خلاف روش اختیار کی ہے جو چند روز قبل عرب ممالک کی نمائندہ تنظیم کے ایک اجلاس میں سامنے آیا تھا۔ قطر کے وزیر خارجہ شيخ محمد بن عبد الرحمن آل ثانی نے ترکی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی شام میں انقرہ کے فوجی حملے کا مقصد "نزدیک آتے خطرے" کو ختم کرنا ہے۔

دوحہ میں منگل کے روز گلوبل سیکورٹی فورم میں شرکت کے دوران شیخ محمد کا کہنا تھا کہ "ہم نے ایران کی جانب سے کوئی معاندانہ رویہ نہیں دیکھا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ترکی پر ملامت نہیں کر سکتے کیوں کہ انقرہ نے ایک نزدیکی خطرے کا جواب دیا ہے جو ترکی کے امن کو نشانہ بنا رہا تھا"۔

قطری وزیر خارجہ کے مطابق "ترکی نے شروع سے ہی کہہ دیا تھا کہ ان جماعتوں (سیرین ڈیموکریٹک فورسز) کو سپورٹ نہ کیا جائے مگر کسی نے یہ بات نہیں سنی. ترک ایک سال سے امریکا کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے تا کہ ایک سیف زون قائم ہو جائے اور اس کی سرحد کے پاس سے خطرے کو دور کر دیا جائے"۔

یاد رہے کہ جون 2017 میں سعودی عرب ، بحرین اور امارات کی جانب سے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کیے جانے کے بعد سے دوحہ ترکی کا ایک مرکزی حلیف بن چکا ہے۔

اسی طرح قطر ایک سے زیادہ مرتبہ ایران کا اعلانیہ دفاع کر چکا ہے۔ دوحہ نے تہران پر پابندیوں کی مخالفت کی اور قطر نے ایران کے مواقف کو معزز قرار دیا۔