.

'یو اے ای' کا روس سے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ایندھن خرید کرنے کا فیصلہ

ماسکو۔ ابو ظبی کا پٹرولیم کے شعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری کا حجم 30 کروڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے روسی جوہری ایندھن خریدنے کے لیے روس کے ساتھ ایک نئے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ امارات کا کہنا ہے کہ وہ روس سے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ایندھن خریدے گا۔

امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی'وام' نے صنعت وتوانائی کے وزیر سہیل المزروعی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ابو ظبی ماسکو سے جوہری ایندھن کی خریداری کے لیے تعاون کررہا ہے۔

مزروعی نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کے پرامن جوہری توانائی پروگرام کے فریم ورک کے تحت روسی جوہری ایندھن خریدنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور بات چیت جار ہے۔

مُتحدہ عرب امارات کے وزیر برائے توانائی و صنعت نے کہا کہ روسی صدر ولادی میر پوتین کا متحدہ عرب امارات کا دورہ دونوں ممالک کے مابین جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی طاقت کی عکاسی کرتا ہے اور اہم شعبوں میں تعاون میں اضافے کیا ذریعہ بنے گا۔

المزروعی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور روس کے تعلقات تاریخی ہیں اور مشترکہ مفادات کے لیے باہمی تعاون اور احترام پر مبنی تعلقات مزید مستحکم ہون گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات اور روس کے مابین تعاون کے نقشے میں بہت سے اہم شعبوں خصوصا توانائی ، صنعت اور پرامن جوہری توانائی شامل ہے۔ متحدہ عرب امارات کے پرامن جوہری توانائی پروگرام کے فریم ورک کے تحت روسی "جوہری ایندھن" خریدنے کے لئے باہمی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں کہا کہ روس اور امارات پٹرولیم مصنوعات کےشعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری کے مختلف منصوبوں پرکام کریں گے۔ دونوں ممالک کا تیل کی صنعت میں مشترکہ سرمایہ کاری کا حجم 30 کروڑ ڈالر سے زیاہ ہے اور آنے والے وقت میں اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی کئی کمپنیاں متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں تیل اور گیس کے شعبے مین سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

خیال رہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتین گذشتہ روز ایک روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچے تھے۔ صدر پوتین آج منگل کو متحدہ عرب امارات پہنچیں گے۔