.

ایران نے جوہری معاہدے سے حاصل رقوم سے دہشت گردی کی فنڈنگ کی : سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ ایرانی جوہری معاہدے میں خامی پائی جاتی ہے۔ مملکت ایک ایسے جامع بین الاقوامی سمجھوتے کے وجود کی اہمیت پر زور دیا جو ایران کو کسی بھی شکل میں جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کو یقینی بنائے۔ سعودی عرب نے باور کرایا کہ تہران نے جوہری معاہدے سے حاصل اقتصادی آمدنی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دہشت گردی کی سرگرمیوں کی فنڈنگ کی۔

یہ موقف منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے دوران فرسٹ کمیٹی کے سامنے سعودی عرب کے خطاب میں پیش کیا گیا۔ یہ خطاب اقوام متحدہ کے لیے مملکت کے مستقل وفد میں Disarmament and International Security کمیٹی کے سربراہ منصور المطیری نے کیا۔

سعودی عرب کے مطابق اس نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی ان رپورٹوں کا تشویش کے ساتھ جائزہ لیا ہے جن میں ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح مذکورہ معاملے میں ایرانی ذمے داران کے حالیہ بیانات کو بھی بغور نظر میں رکھا گیا۔

المطیری کا کہنا تھا کہ ایران نے جوہری معاہدے سے حاصل اقتصادی آمدنی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے خطے میں اپنی معاندانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے واسطے استعمال کیا۔ اس حوالے سے آخری کارروائی سعودی عرب کے شہروں بقیق اور خریص میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے قابل مذمت حملے تھے۔ حملوں میں 25 کروز میزائل اور ڈرون طیارے استعمال کیے گئے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور عالمی امن و سلامتی پر حملہ تھا جس نے عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل کو سنگین خطرے میں ڈال دیا۔

المطیری کے مطابق سعودی عرب عالمی سطح پر بالخصوص مشرق وسطی میں جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کے سلسلے میں جاری کوششوں کی اہمیت کو باور کراتا ہے۔