.

تُرکی پر عاید امریکی پابندیوں کا خاتمہ شام میں فوجی آپریشن روکنے سے مشروط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

محکمہ خارجہ کے ایک سینیر عہدیدار نے منگل کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ واشنگٹن شام میں جنگ بندی کے لیے سفارتی دباؤ پر توجہ مرکوز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ ترکی نے امریکی پابندیوں کے خطرے کو نظر انداز کرتے ہوئے شمالی شام میں اپنی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔

اس عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ترکی پر دباؤ ڈالتی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بحران حل نہ ہوا تو پابندیوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔طیب

امریکی عہدے دار نے اعلان کیا کہ امریکی نائب صدر مائک پینس کرد جنگجوؤں کے خلاف ترکی کی کارروائی روکنے کی کوشش میں آج بدھ کو ترکی پہنچیں گے۔

منگل کے روز ترک ایوان صدر نے اعلان کیا کہ انقرہ شام میں "دنیا کے تعاون سے یا بغیر" اپنا آپریشن جاری رکھے گا۔ ایک بیان میں ترکی نے شامی حکومت اور کرد فورسز کے مابین معاہدے کی مذمت کی ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا تھا کہ روس کو شمالی شام کی صورتحال پر گہری تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ترکی کی سلامتی دونوں اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے تمام ممالک دہشت گردی سے متاثر ہیں۔

شام میں کریملن کے مندوب، الیگزینڈر لورنیائیف نے شمال مشرقی شام میں ترک حملے کو "ناقابل قبول" قرار دیا ہے۔