.

شامی اور روسی فوجی سرحدی شہر کوبانی میں داخل،منبج پر مکمل کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس کے فوجی کرد حکام کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت سرحدی شہر عین العرب ( کوبانی ) میں داخل ہوگئے ہیں۔

ترکی کی شمال مشرقی شام میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد کرد فورسز نے اس شہر کو شامی فوج کے حوالے کرنے سے اتفاق کیا تھا۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بدھ کو اس شہر میں شامی نظام اور روسی فوج کے داخلے کی اطلاع دی ہے۔

قبل ازیں روس کے سرکاری ٹی وی نے یہ اطلاع دی تھی کہ شامی فوج نے ملک کے شمال مشرق میں امریکی فوج کے خالی کردہ اڈوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔

شامی حکومت کی فورسز نے منگل کو کرد فورسز کی دستبرداری کے بعد منبج شہر کا بھی کنٹرول سنبھال لیا تھا اور روس نے اس کی تصدیق کی تھی۔ شامی حکومت نے حال ہی میں ترکی کے حملے کے بعد ملک کے شمال میں اپنے فوجی تعینات کردیے ہیں۔

روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ’’شامی حکومت کی فوج نے منبج شہر اور اس کے نواح میں واقع بستیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔‘‘شامی فوج گذشتہ چند سال کے بعد پہلی مرتبہ ان دونوں شہروں میں داخل ہوئی ہے۔ان پر پہلے داعش کے جنگجوؤں کا کنٹرول تھا اور پھر کردملیشیا کے زیر قیادت شامی جمہوری فورسز نے داعش کو شکست دینے کے بعد منبج اور عین العرب پر قبضہ کر لیا تھا۔