.

کیا داعش نے شامی کرد فورسز کے زیرِ حراست اپنی عورتوں کو رہا کرالیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترکی کی فوجی کارروائی کے بعد کرد فورسز کے زیر انتظام حراستی مرکز،کیمپوں اور جیلوں سے داعش کے جنگجوؤں اور ان کی خواتین کے فرار کی نئی نئی خبریں سامنے آرہی ہیں اور اب خود داعش نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے شامی کردوں کی حراست سے اپنی بعض خواتین کو ’’آزادی‘‘ دلا دی ہے۔

داعش گروپ نے جمعرات کو ٹیلی گرام پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے الرقہ میں ایک سکیورٹی ہیڈکوارٹر پر بدھ کو دھاوا بولا تھا اور وہاں زیر حراست مسلم خواتین کو رہا کرالیاہے۔داعش کے بہ قول ان خواتین کو کردوں کے زیر قیادت فورسز نے اغوا کر لیا تھا۔

اس نے بیان میں رہاکرائی گئی ان خواتین کی تعداد نہیں بتائی ہے اور نہ یہ وضاحت کی ہے کہ آیا یہ خواتین داعش کی ارکان ہیں یا انتہا پسندوں کی بیویاں ہیں ۔

فرانسیسی وزیر خارجہ وائی ویس لی دریان نے بدھ کو پیرس میں ایک بیان میں شام کے شمال مغرب میں کرد فورسز کے زیر انتظام ایک کیمپ سے نو فرانسیسی خواتین کے فرار کی تصدیق کی تھی۔

کردوں کے زیر انتظام کیمپ سے فرار ہونے والی تین فرانسیسی عورتوں کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ داعش کے ہتھے چڑھ گئی ہیں اور انھوں نے اپنے وکیل کو اس سلسلے میں پیغامات کے ذریعے مطلع کردیا ہے۔

دو روز پہلےشمالی شام میں کرد انتظامیہ نے یہ اطلاع دی تھی کہ شمالی قصبے عین عیسیٰ میں واقع کیمپ کے نزدیک ترک فوج کی بمباری کے نتیجے میں داعش کے ارکان کے 785 رشتے دار فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ان میں داعش کی خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

کرد ذرائع کے مطابق شام کے شمال مشرقی علاقے میں واقع جیلوں میں داعش کے قریباً 12 ہزار جنگجو قید ہیں۔ ان میں ڈھائی سے تین ہزار غیر ملکی ہیں۔ان کے علاوہ ان کے خاندانوں کے 12 ہزار افراد کیمپوں میں زیر حراست ہیں۔یہ بھی تمام غیر ملکی ہیں اور ان میں آٹھ ہزار بچے اور چار ہزار خواتین ہیں۔