.

ترکی اور امریکا کے درمیان شام سے متعلق معاہدہ 'مبہم' ہے: شامی رجیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کرد فورسز کے خلاف ترکی کے آپریشن روکنے کے لیے امریکا اور ترکی کے درمیان طے پائے معاہدے کو شامی حکومت نے مسترد کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی حکومت کی مشیر برائے سیاسی و ابلاغی امور بثنیہ شعبان نے جمعرات کے روز کہا کہ امریکا اور ترکی کا اعلان کردہ معاہدہ مبہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور انقرہ کے مابین جو معاہدہ ہوا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روس اور شام اس پر متفق ہوجائیں گے۔ اگر ترکی مدد نہ کرتا تو ہزاروں دہشت گرد شام میں داخل نہ ہوسکتے۔

شعبان نے مزید کہا کہ شام میں سیف زون کی اصطلاح درست نہیں ہے کیونکہ یہ ایک مقبوضہ علاقہ ہوگا۔ انہوں نے توجہ دلائی کی پوری دنیا شام میں ترکی کی جارحیت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔

بثنیہ شعبان نے زور دے کر کہا کہ شامی حکومت اپنے ملک میں عراقی کردستان کا ماڈل قبول نہیں کرے گی۔

سیز فائر معاہدہ

جمعرات کے روز امریکی نائب صدر مائک پینس نے انقرہ کے شمالی شام سے انخلا کے بارے میں ترکی اور امریکا کے درمیان معاہدے کا اعلان کیا۔

پینس نے انقرہ میں امریکی سفارت خانے میں ایک بیان میں کہا کہ واشنگٹن اور ترکی نے شام میں جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ترکی طے شدہ سمجھوتے کے تحت اپنی تمام فوجی کارروائیوں میں وقفہ کرے گا تاکہ کرد ملیشیا وائی پی جی محفوظ زون سے 120 گھنٹے کے وقت میں واپس چلی جائے۔جب کرد جنگجوؤں کا انخلا مکمل ہوجائے گا تو پھر ترکی کی ’آپریشن امن بہار‘ کے نام سے فوجی کارروائی بھی ختم کردی جائے گی۔

مائیک پینس کا کہنا تھا کہ علاقے میں موجود امریکی فورسز پہلے ہی وائی پی جی کے یونٹس کو سرحدی علاقے سے محفوظ انداز میں پیچھے ہٹانے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کررہی ہیں۔

امریکی نائب صدر کے صدر ایردوآن کے ساتھ طے پانے والے اس سمجھوتے کے تحت ترکی شام کے سرحدی شہر کوبانی ( عین العرب) میں بھی کوئی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔ کرد فورسز نے بدھ کو اس شہر کا کنٹرول شامی فوج کے حوالے کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ’’ترکی اور امریکا شمالی شام میں ’محفوظ زون‘ کے قیام کے مسئلے کے پُرامن حل کے لیے پُرعزم ہیں۔‘‘ترکی کی اس فوجی کارروائی کا مقصد اپنی سرحد کے نزدیک اس محفوظ زون کا قیام ہےتاکہ وہاں شامی مہاجرین کی محفوظ واپسی ہوسکے۔ اس نے امریکا کو ماضی میں شام میں اس محفوظ زون کے عدم قیام کی صورت میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔