.

سعودی عرب کی نوجوان خاتون آرٹسٹ میلہ لوٹ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں منعقدہ آرٹ میلے میں ایک نوجوان خاتون آرٹسٹ نے اپنے تشکیل آرٹ کے ہنر کا لوہا منوا کر میلہ لوٹ لیا۔

سعودی آرٹسٹ سکنہ حسن کی پینٹنگزجمالیاتی پہلوؤں کی عکاسی کرنے کے ساتھ حقیقت اور روز مرہ زندگی کی ترجمانی کرتی ہیں۔ اس کی بہت سی پینٹنگز میں صنف نازک کے انسانی احساسات وجذبات کی عکاسی ہوتی ہے۔ جو زمان ومکان کی قید سے آزاد صرف تخلیقی زبان میں اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہے۔

آرٹ میلے میں شرکت کرنے والے تقریبا ہرشخص نے سکنہ حسن کی تیار کردہ پینٹگز میں دلچسپی لی اور تخیل اور اس کے منفرد اظہار کی تعریف وتحسین کی ہے۔

ریاض سیزن میں منعقدہ سعودی فالکنز اور شکار ایگزیبیشن میں سکنہ حسن نے 'ریشہ صقار' آرٹ ایوارڈ جیتنے کے ساتھ میلے میں شریک پانچ مختلف کیٹی گریز میں ڈیجیٹل پینٹنگ ٹریک میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

سکنہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مقابلہ 11 اکتوبر کو شروع ہوا جو چار دن تک جاری رہا۔ اس مقابلے میں ڈیجیٹل ڈرائنگ ٹریک میں حصہ لینے والے 8 آرٹسٹوں پر مشتمل تھا کہ جب کہ جیوری کمیٹی میں پروفیسر ، ماہرین تعلیم اور تجربہ کار آرٹسٹ شامل تھے جن میں معجب الزھرانی، ڈاکٹر ہناء الشبلی اور پروفیسر نورہ الدباغ شامل تھیں۔

خواتین کی جیتنے والی پینٹنگز اور مختلف کاموں میں ان کی موجودگی کے بارے میں سکنہ نے کہا کہ خواتین میری پینٹنگز میں ہمیشہ طاقت کا ایک ذریعہ رہتی ہیں اور پرندے مردوں کی علامت ہیں۔ شاہین سعودی عرب کی ثقافت اور ورثے کی علامت ہے۔ یہ پرندہ والد کی نمائندگی کرسکتا ہے۔ یا بھائی ، شوہر اور یہاں تک کہ بیٹے کی نمائندگی کرتا ہے۔