.

ترکی کی فوج فائر بندی کی خلاف ورزی کر رہی ہے: سیرین ڈیموکریٹک فورسز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی شام میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے ہفتے کے روز ترکی کی فوج پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایس ڈی ایف نے باور کرایا کہ ترکی کی فوج اور انقرہ کے حمایت یافتہ شامی اپوزیشن گروپ فائر بندی کی پاسداری نہیں کر رہے۔ ساتھ ہی واشنگٹن سے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تا کہ راس العین سے زخمیوں کے انخلاء کے واسطے انسانی بنیادوں پر ایک گذر گاہ کھول دی جائے۔

ایس ڈی ایف نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ وہ 17 اکتوبر کو امریکا کی وساطت سے ترکی کے ساتھ طے پانے والے فائر بندی کے سمجھوتے پر آمادہ ہو گئی اور اس نے سمجھوتے کی پاسداری کا آغاز بھی کر دیا تھا تاہم ترکی کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملے کا سلسلہ جاری رہا۔

بیان کے مطابق فائر بندی کے نافذ العمل ہونے کے 30 گھنٹے بعد بھی ترکی کی فوج نے راس العین میں محصور زخمیوں اور شہریوں کے اںخلاء کے لیے کوئی محفوظ گذر گاہ کھولنے کا اجازت نہیں دی۔

ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ترکی کو فائر بندی کے سمجھوتے کا پابند بنانے اور محصور زخمیوں اور شہریوں کے انخلاء کے لیے گذر گاہ کھلوانے کی ذمے داری امریکی نائب صدر مائیک پینس اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے ترکی کے ساتھ فائر بندی کا سمجھوتا طے کیا۔

سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے باور کرایا کہ امریکی جانب کے ساتھ مسلسل رابطے اور واشنگٹن کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے لیے کیے جانے والے وعدوں کے باوجود ابھی تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔

دوسری جانب شام میں العربیہ کی خاتون رپورٹر کے مطابق سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے جمعے کے روز تل ابیض کے علاقے میں ترکی کا ایک طیارہ مار گرایا۔