.

حزب اللہ لبنانی حکومت کے استعفے کی حمایت نہیں کرتی : حسن نصرااللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت وزیراعظم سعد الحریری کی حکومت کے استعفے کی حمایت نہیں کرتی بلکہ وہ موجودہ حکومت کی ’’ ایک نئے ایجنڈے اور نئے جذبے ‘‘ کے ساتھ حمایت کرتی ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز ایک نشری تقریر میں کہا کہ ’’جو کوئی بھی اپنی ذمے داریوں سے راہ فرار اختیار کررہا ہے،اس کا احتساب کیا جانا چاہیے۔بالخصوص جن لوگوں کا بھی ماضی کی حکومتوں میں کردار رہا ہے، لبنانی عوام ان سب کا احتساب کریں۔‘‘

لبنان میں وزیراعظم سعد حریری کی حکومت کے خلاف اس کی نئی اعلان کردہ ٹیکس اصلاحات پر جمعرات سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور اس سے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔حکومت نے ملک کو درپیش معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے وٹس ایپ پر کال پر فیس سمیت مختلف ٹیکس متعارف کرائے ہیں۔

سعد الحریری نے جمعہ کو ایک نشری تقریر میں اپنے اتحادیوں سے ان معاشی اصلاحات کی حمایت کا مطالبہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ملک اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے اور اصلاحات کا مطلب مزید ٹیکس نہیں۔

لیکن حسن نصراللہ نے ان نئے ٹیکسوں کی مذمت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حالیہ مظاہروں سے حکام پر واضح ہوجانا چاہیے کہ لبنانی عوام مزید ٹیکس اور فیسیں برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اگر غریبوں پر نئے ٹیکس لگائے جائیں گے تو پھر ہم بھی سڑکوں پر آجائیں گے۔

لبنانی حکومت نے ایسے وقت میں ٹیکس اصلاحات پیش کی ہیں جب ملک بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے اور یہ امریکی ڈالر کی قلت کے سبب پیدا ہوا ہے۔ڈالر کی کم یابی سے اس کی لبنانی پاؤنڈ کے مقابلے میں قدر میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور ایک ڈالر کی قیمت 1501 لبنانی پاؤنڈ سے بڑھ کر 1514 لبنانی پاؤنڈ ہوگئی ہے۔اس کے پیش نظر روٹی اور ایندھن کی قلت کے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

حسن نصراللہ نے اپنی تقریر میں لبنان کے سیاسی حکام کو حکومت پر استعفے کے لیے دباؤ ڈالنے پر خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایسا نہ کریں کیونکہ وہ اس کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں اور اگر حکومت استعفا دے دیتی ہے تو پھر نئی حکومت کی تشکیل میں ایک سے دو سال لگ سکتے ہیں۔

حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو ملک کو درپیش موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے اپنے حصے کی ذمے داری قبول کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ ایران نواز حزب اللہ سعد الحریری کے زیر قیادت کثیر جماعتی حکومت میں شامل ہے ۔اس کے ساتھ اس کی اتحادی مستقبل پیٹریاٹک تحریک بھی اس حکومت کا حصہ ہے۔ یہ حکومت کئی ماہ کی تاخیر کے بعد تشکیل پائی تھی۔