.

لبنان میں عوام پر کیا کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا:ذرایع

بنکوں پر نیا ٹیکس عاید کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی حکومت کے ایک ذرائع نے 'العربیہ' نیوز چینل کو بتایا کہ حکومت نے بجٹ کا مسودہ تیار کیا ہے جس میں شہریوں کے لیے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ "سوچا سمجھا ٹیکس" لگانے کی تیاری کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے نئے پلان کا مقصد ریاست کے مالی خسارے کو کم کرنا تھا۔

لبنانی وزیر خزانہ نے ہفتے کے روز وزیر اعظم سعد حریری سے ملاقات کے بعد کہا کہ انہوں نے بڑے پیمانے پر مظاہروں کوختم کرنے اور حالات کو معمول پر لانے کوشش میں حتمی بجٹ پر اتفاق کیا ہے جس میں کوئی ٹیکس یا سرچارج شامل نہیں کیا گیا۔

لبنان کے صدر مشیل عون نے ٹویٹر پر کہا کہ اس بحران کا ایک اعتماد بخش حل ہو گا۔

وزیراعظم سعد الحریری نے ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہروں اور پرتشدد احتجاج کا موجب بننے والے بحران کے حل کے لیے وزارت سطح پر اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے اتحادیوں کو بحران کے حل کے لیے 72 گھنٹے کی مہلت دی تھی۔

وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کی روک تھام کے لیے وزیراعظم اور ملک کی دیگر نمائندہ سیاسی قوتوں کی قیادت میں صلاح مشورہ جاری ہے۔ گذشتہ روز لبنانی وزیر صعنت وائل ابو فاعور، وزیرمحنت اور ٹرانسپورٹ یوسف فینا نوس اور وزیرخزانہ علی حسن خلیل نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔

ادھر کل ہفتے کے روز بھی لبنان کے کئی شہروں میں لوگوں نے سڑکوں پرنکل کر بھاری ٹیکسوں اور خراب معاشی حالات کے خلاف احتجاج کیا۔