.

لبنانی کابینہ نے معاشی اصلاحات کے پیکج ،2020ء کے بجٹ کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی حکومت نے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد معاشی اصلاحات کے نئے پیکج سے اتفاق کیا ہے، اس کے تحت نئے پاور پلانٹس کی تنصیب کے لیے اجازت ناموں کے اجراء کا عمل تیز کیا جائے گا۔

وزیراعظم سعد الحریری نے سوموار کو کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں اس اقتصادی پیکج کی منظوری کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے ملک گیر احتجاجی تحریک میں حصہ لینے والے مظاہرین سے مخاطب ہوکر کہا کہ’’میں آپ سے یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ احتجاج ختم کردیں، یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔کسی کو بھی آپ کو ہراسان کرنے یا ہٹانے کا حق حاصل نہیں ہے۔آپ ہی نے کابینہ کے وزراء کو آج کا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔‘‘

انھوں نے سرکاری شعبے میں بدعنوانیوں کے خاتمے اور وزراء کی تن خواہوں میں پچاس فی صد تک کٹوتی کے لیے اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔

انھوں نے مظاہرین کو مخاطب کرکے کہا کہ ’’یہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ احتجاج کے دوران میں آپ کا تحفظ کرے۔‘‘

سعد الحریری نے یہ بھی اعلان کیا کہ ’’اگر مظاہرین قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں تو میں اس کو بھی پورا کرنے کے لیے مدد دینے کو تیار ہوں۔‘‘

لبنان کے دارالحکومت بیروت اور دوسرے شہروں میں گذشتہ پانچ روز سے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ان میں ہزاروں مرد وخواتین اور بچے حصہ لے رہے ہیں۔وہ سرکاری حکام کی کرپشن اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔وہ حکومت کے کفایت شعاری کے لیے مجوزہ اقدامات اور انحطاط کا شکار انفرااسٹرکچر کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔اب وہ لبنان کے پورے سیاسی نظام میں اصلاحات اور حکمراں اشرافیہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

سعد الحریری کے زیر قیادت اس وقت لبنان میں ایک کثیر جماعتی حکومت قائم ہے۔اس میں ان کی مستقبل تحریک اور اس کی حریف ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور مستقبل پیٹریاٹک موومنٹ شامل ہیں۔اس کابینہ میں شامل مسیحی رہ نما سمیرجعجع کے زیر قیادت جماعت کے وزراء نے اتوار کو استعفے دے دیے تھے اور ان کے مستعفی وزراء نے آج کابینہ کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی ہے۔