.

سعودی عرب کا مشرق وسطی کو وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے باور کرایا ہے کہ مشرق وسط کو جوہری اور وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانا بین الاقوامی سطح پر ایک اجتماعی ذمے داری ہے۔ مملکت نے عالمی برادری ، اقوام متحدہ اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شامل ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس خطے کے قیام کے حوالے سے اپنی پاسداریوں کو پورا کریں۔ اس کا مقصد بالخصوص مشرق وسطی اور بالعموم ساری دنیا میں امن و سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

سعودی عرب کا یہ موقف منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں ہتھیاروں کی تلفی اور بین الاقوامی امن سے متعلق فرسٹ کمیٹی کی کارروائی کے دوران سامنے آیا۔ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے بحث کے لیے منعقد اجلاس میں اقوام متحدہ کے لیے سعودی عرب کے مستقل وفد کے رکن فرسٹ سکریٹری محمد القحطانی نے خطاب کیا۔

سعودی خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق القحطانی نے عرب ممالک کے گروپ اور غیر جانب دار تحریک کے بیانات کے لیے سعودی وفد کی تائید کی۔ بیانات میں کہا گیا کہ سعودی عرب اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی بنیادی اصولوں کی پاسداری کر رہا ہے۔ مملکت تمام شعبوں بالخصوص بین الاقوامی امن اور ہتھیاروں کی تلفی کے سلسلے میں اقوام متحدہ کا کردار مضبوط بنانے میں خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ مملکت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ یہ امور ایک جامع یک جہتی کی نمائندگی کرتے ہیں جس کے بنا اس دنیا کا امن و استحکام کے ساتھ رہنا ممکن نہیں۔

القحطانی کے مطابق سعودی عرب اس امر کو باور کراتا ہے کہ مشرق وسطی میں جوہری اور وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے پاک خطہ قائم کرنے سے متعلق قرار داد 1995 ابھی تک نافذ العمل ہے یہاں تک کہ اس کے مقاصد اور اہداف حاصل نہ ہو جائیں۔

سعودی وفد کے فرسٹ سکریٹری کا کہنا تھا کہ مملکت ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہراتی ہے کہ اسرائیل کا جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شامل نہ ہونا بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ یہ اقوام متحدہ کی درجنوں قرار دادوں اور سلامتی کونسل کی قرار داد 487 اور 687 کو واضح طور پر چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک "جامع بین الاقوامی معاہدے" کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ ایسا معاہدہ جو تہران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکے جانے کو یقینی بنائے۔

القحطانی نے مشرق وسطی کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے سے متعلق کانفرنس کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی جانب سے دی گئی دعوت کا سعودی عرب کی طرف سے خیر مقدم کیا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے مذکورہ کانفرنس آئندہ ماہ نومبر میں اردن کے زیر صدارت منعقد ہو گی۔ تمام مدعو ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پیشگی شرائط کے بغیر اس کانفرنس میں شرکت کو یقینی بنائیں۔

القحطانی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ "مملکت سعودی عرب باور کراتی ہے کہ تمام ممالک کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے مقرر کردہ معیار کے مطابق ایجنسی کے زیر نگرانی جوہری توانائی کا پُر امن استعمال کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ پُر امن استعمال کے لیے ایٹمی توانائی کے حصول سے متعلق ٹکنالوجی ، تجربات اور ساز و سامان کی منتقلی کو آسان بنایا جائے۔ اسی طرح مملکت صنعتی ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ ان شعبوں میں ٹکنالوجی کو ترقی پذیر ممالک تک منتقل کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے تعاون کریں"۔