.

سعودی عرب کی تاریخ میں بنیادی نوعیت کے تغیّرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آتا ہے کہ 2014 میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی مملکت سعودی عرب کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔ اس بات کا اظہار روسی خبر رساں ایجنسی " ٹاس" کی ایک رپورٹ میں کیا گیا۔

مملکت کی جانب سے سعودی ویژن 2030 پروگرام ترتیب دیا گیا جس کا مقصد خام تیل کی آمدنی پر انحصار کو کم کرنا ہے۔ اس حوالے سے نجی سیکٹر کے علاوہ ہائی ٹکنالوجی، تعلیم اور سیاحت کے شعبوں کی سطح کو بلند کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

مملکت میں بے روزگاری کی شرح جو سعودی نوجوانوں میں 25% تک پہنچ گئی تھی ،،، اس پر قابو پانے کے لیے سعودی حکام نے غیر ملکی ورکروں پر عائد ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا۔

ستمبر 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 30 ماہ کے دوران بیس لاکھ کے قریب غیر ملکی کارکنان مملکت سے کوچ کر گئے اور ان کی جگہ سعودی شہریوں نے لے لی۔

سعودیانے پر توجہ مرکوز

مملکت میں غیر ملکی ورکروں کی تعداد میں کمی لانا ،،، ایک طویل عرصے سے سعودی حکومت کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ سرکار اعداد و شمار کے مطابق تجارتی سیکٹر میں 15 لاکھ افراد کام کر رہے ہیں جن میں صرف 3 لاکھ سعودی ہیں۔ سعودی عرب کی 3.3 کروڑ کی آبادی میں 2016 میں غیر ملکی ورکروں کی تعداد 85 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔

مختلف رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب میں نجی سیکٹر میں اقتصادی طور پر سرگرم افراد میں 70 سے 80% لوگ غیر ملکی ہیں۔ ان میں گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔

ہر غیر ملکی ورکر پر ماہانہ ٹیکس

سعودی عرب میں ہر غیر ملکی ورکر پر مملکت میں رہنے کے لیے ماہانہ 100 ریال ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ سال 2020 میں ماہانہ ٹیکس کی یہ رقم بڑھ جائے گی اور ہر غیر ملکی ورکر کو ماہانہ ٹیکس کی مد میں 400 ریال ادا کرنا ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق ریاض کے سامنے کوئی آپشن نہیں ہے۔ اگر مملکت نے غیر ملکی ورکروں کا سیلاب نہ روکا تو روزگار کی منڈی میں مقامی آبادی کا حصہ مطلوبہ سطح سے کم رہ جائے گا۔

ویژن 2030 پروگرام کے تحت اصلاحات میں 5% ویلیو ایڈڈ ٹیکس نافذ کیا گیا اور پٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا۔ اگرچہ مملکت میں پٹرول کی قیمت اب بھی دنیا میں سب سے کم نرخوں میں سے ہے تاہم اس ایندھن کی مختلف اقسام کی قیمتوں میں 83 سے 127% تک اضافہ ہوا ہے۔

سیاحتی ویزے

سال 2019 میں مملکت نے آمدنی کا ایک اور ذریعہ دریافت کیا اور وہ ہے سیاحت کا شعبہ ... ستمبر 2019 میں سعودی عرب نے دنیا کے 49 ممالک کے شہریوں کو سیاحتی ویزا جاری کرنے کی سہولت کا اعلان کیا۔

معیشت کو کامیاب بنانے کے لیے سعودی عرب کو اس امر کی ضرورت ہے کہ روزگار کی منڈی میں خواتین کے لیے زیادہ بڑی جگہ پیدا کی جائے۔

دوسری جانب سعودی حکام ہائی ٹکنالوجی کے شعبے میں دل چسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سرپرستی میں مصر اور اردن کے ساتھ سرحد پر "نیوم ہائی ٹکنالوجی سٹی" بنایا جا رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت

ریاض حکومت کے وضع کردہ منصوبوں کے مطابق اکیس ویں صدی کی جدید ترین ٹکنالوجی اختیار کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان میں روبوٹس، جینیاتی انجینئرنگ اور 3D ایفیکٹس کا مؤثر استعامل شامل ہے۔

یاد رہے کہ نیوم سٹی کے لیے مختص رقبہ امریکی شہر نیویارک کے حجم کے 33 گنا رقبے کے برابر ہے۔

سال 2018 میں سعودی عرب کی معیشت میں 2% کے تناسب سے اضافہ ہوا۔ اس سلسلے میں نان آئل سیکٹر میں ترقی کی شرح 3% رہی۔

دوسری جانب مملکت کی تیل کی آمدنی مجموعی مقامی پیداوار کا 42% جب کہ مملکت کی مجموعی بیرونی آمدنی کا 90% رہی۔