.

شام میں کُردوں کے خلاف دوبارہ حملے شروع کرنے کی ضرورت نہیں : ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے بدھ کے روز ایک اعلان میں کہا ہے کہ جنگ بندی کا دورانیہ ختم ہونے کے بعد اسے شمال مشرقی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف دوبارہ حملے شروع کرنے کی "ضرورت نہیں"۔ ترکی کے مطابق امریکا نے اسے آگاہ کیا ہے کہ سرحدی علاقوں سے کرد فورسز کا انخلا کامیابی سے پورا ہو گیا۔ ترکی کی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس مرحلے پر کسی نئے آپریشن پر عمل درامد کی ضرورت نہیں ہے۔

ترکی کا یہ اعلان منگل کے روز روس کے شہر سوچی میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کے ساتھ طویل بات چیت کے بعد سامنے آیا ہے۔ ملاقات میں فریقین نے 10 شقوں پر مشتمل ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کی رُو سے شام اور ترکی کی سرحد پر ترکی اور روس کے دستے مشترکہ گشت کریں گے۔ بدھ 23 اکتوبر کی دوپہر سے سرحد پر شام کے حصے میں روسی فوجی پولیس اور شامی حکومت کی فورسز کے دستے گشت کا آغاز کریں گے۔ ان کا بنیادی مشن آئندہ 150 گھنٹوں کے دوران ترکی کے آپریشن کے متوازی علاقے سے کرد فورسز اور ان کے ہتھیاروں کا انخلا ہے۔ بعد ازاں ماسکو اور انقرہ سرحدی علاقے میں صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے مشترکہ دستوں کا گشت عمل میں لائیں گے۔

مذکورہ سمجھوتے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ فریقین ترکی کی قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے شام کی وحدت اور خود مختاری کی پاسداری کریں گے۔

روسی وزیر خارجہ سرگی لاؤروف نے منگل کے روز اس امر کی تصدیق کی کہ روس اور ترکی شمال مشرقی شام میں کرد جنگجوؤں کے غیر مسلح ہونے کے بعد علاقے میں مشترکہ دستوں کا گشت کریں گے۔ لاؤروف کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدے کے تحت کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے جنگجوؤں کو شام کی سرحد سے 30 کلو میٹر دور کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سمجھوتا علاقے میں خون ریزی کو روک دے گا۔ لاؤروف نے واضح کیا کہ 23 اکتوبر کی دوپہر سے روسی فوجی پولیس اور شامی حکومت کے زیر انتظام سرحدی محافظین کی فورسز کو ترکی کے ساتھ سرحد پر شام کے حصے میں تعینات کر دیا جائے گا۔ یہ تعیناتی ترکی کے فوجی آپریشن کے علاقے سے باہر عمل میں آئے گی۔

منگل کی شب شام کے مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے ترک اور کرد فورسز کے درمیان 120 گھنٹوں کے دورانیے کی جنگ بندی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ امریکا کی وساطت سے طے پانے والی اس جنگ بندی کا مقصد اُس سیف زون سے کرد جنگجوؤں کا انخلا تھا جس پر انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان اتفاق رائے ہوا۔

ایک امریکی ذمے دار کے مطابق شامی کرد جنگجوؤں نے منگل کے روز امریکا کو آگاہ کر دیا کہ وہ اُس سیف زون کے علاقے سے مکمل طور پر نکل آئے ہیں جس کا قیام ترکی شمالی شام میں چاہتا ہے۔ یہ پیش رفت انقرہ اور واشنگٹن کے بیچ طے پائی جانے والی فائر بندی کے اختتام سے قبل عمل میں آ گئی۔

مذکورہ امریکی ذمے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے کمانڈر مظلوم عبدی نے ایک خط کے ذریعے امریکی نائب صدر مائیک پینس کو آگاہ کیا کہ علاقے سے پیپلز پروٹیکشن یونٹس کی تمام فورسز کا انخلا عمل میں آ چکا ہے۔

ادھر سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ایک رہ نما ریدور خلیل نے منگل کے روز باور کرایا کہ وہ ترکی کے ساتھ فائر بندی اور متفقہ سرحدی علاقے سے اپنے جنگجوؤں کے انخلا پر پوری طرح عمل پیرا ہے۔ خلیل کے مطابق مشرق میں تل راس العین سے لے کر مغرب میں تل ابیض تک پھیلے ہوئے علاقے کو مکمل طور پر خالی کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ترکی نے اپنے ہمنوا شامی اپوزیشن گروپوں کے ساتھ مل کر رواں ماہ 9 اکتوبر سے امریکا کے حمایت یافتہ کرد جنگجوؤں کے خلاف بڑے حملے کا آغاز کیا تھا۔ یہ فوجی آپریشن سرحدی علاقوں سے امریکی فورسز کے انخلا کے دو روز بعد شروع ہوا۔ حملہ آور ترک فوج کے یونٹوں نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے تل ابیض سے لے کر راس العین تک 120 کلو میٹر کی سرحدی پٹی پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

ترکی نے جمعرات کے روز شمال مشرقی شام میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (تنظیم) کے خلاف اپنے حملوں کو روک معلق کر دیا تھا۔