.

الحدیدہ : حوثی ملیشیا نے ایندھن کے 8 آئل ٹینکروں کا داخلہ روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں قانونی حکومت کی اقتصادی کمیٹی نے باغی حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ملک کے مغرب میں واقع الحدیدہ کی بندرگارہ کے سامنے پٹرولیم مصنوعات کے بحری جہازوں کو روک رکھا ہے جس کے سبب جہازوں کے داخلے اور ان پر لدے مال کو اتارے جانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

کمیٹی نے جمعرات کے روز جاری اپنے ایک مختصر بیان میں بتایا کہ "حوثی ملیشیا اب تک ایندھن کے 8 بحری آئل ٹینکروں کو روک چکی ہے۔ اس دوران تاجروں کو متعلقہ دستاویزات پیش کرنے اور حکومتی اجازت نامے حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے"۔

کمیٹی کے مطابق حوثی ملیشیا حکومتی فیصلوں کے تحت عمل درامد کرنے والے تاجروں کو دہشت کا نشانہ بناتی ہے .. اور ان کو جیل میں ڈالنے، مالی رقوم ضبط کرنے اور تجارتی سرگرمیاں روک دینے کی دھمکیاں بھی دیتی ہے۔

یمنی حکومت کی اقتصادی کمیٹی نے حوثیوں پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ کے انسداد اور کرنسی کے استحکام کو برقرار رکھنے کے حوالے سے بینکنگ قواعد و ضوابط پر عمل درامد سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ شہریوں کی تنخواہوں کی ادائیگی کے سلسلے میں یمنی حکومت اور بین الاقوامی ایلچی کی کوششوں میں واضح طور پر رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔

کمیٹی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مذکورہ آٹھ آئل ٹینکروں پر تقریبا 1.64 لاکھ ٹن پٹرولیم مصنوعات لدی ہوئی ہیں۔

تقریبا ایک ماہ سے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں پٹرولیم مصنوعات کا سنگین بحران دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چُھو رہی ہیں اور بلیک مارکیٹ میں تیزی آ گئی ہے جہاں یہ مواد سرکاری نرخ سے دو گنا قیمت میں فروخت ہو رہا ہے۔

حوثیوں کی جانب سے دانستہ طور پر ایندھن کا بحران پیدا کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالنا ہے تا کہ حوثی رہ نماؤں کی منظور نظر نجی کمپنیوں کے زیر انتظام پٹرولیم مصنوعات کے جہازوں کو داخل ہونے دیا جائے۔

حوثی ملیشیا کے لیے ایندھن کی تجارت انتہائی اہمیت کی حامل ہے جس کے ذریعے وہ ہوش ربا منافع کما رہی ہے۔

یمنی حکومت کی طرف سے جاری فیصلے کے مطابق کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں کی رقوم عدن میں یمن کے مرکزی بینک میں منتقل ہونے سے پہلے آئل کی کسی بھی شپمنٹ کو آف لوڈ کرنے کا اجازت نامہ نہیں دیا جائے گا۔ یمنی حکومت کی اقتصادی کمیٹی نے الحدیدہ میں مرکزی بینک کی شاخ میں کھاتہ کھول لیا ہے۔ اس کا مقصد ضروری ٹیکس کا حصول اور اقوام متحدہ کے زیر نگرانی اس آمدن کو شہری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں استعمال کرنا ہے۔