.

بشار حکومت کی انٹیلی جنس سے رابطے ہیں اور یہ طبعی امر ہے: ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی ہمیشہ سے یہ اعلان کرتا رہا ہے کہ وہ شمالی شام میں ایک سیف زون کے قیام کا خواہاں ہے تا کہ شامی پناہ گزینوں کو وہاں واپس بھیجا جا سکے۔ بدھ کے روز ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہرایا ہے۔ ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو کا کہنا ہے کہ شمالی شام کے حوالے سے ترکی اور روس کے درمیان طے پانے والا معاہدہ سیاسی اور سفارتی کامیابی ہے ،،، علاوہ ازیں یہ پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے ایک بنیادی اقدام ہے۔

بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران اولو نے واضح کیا کہ سمجھوتے کے مطابق سیف زون دریائے فرات سے لے کر عراقی سرحد تک پھیلا ہوا ہو گا۔ اس میں عین العرب اور القامشلی کا مشرقی حصہ بھی شامل ہو گا۔

ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "آئندہ 150 گھنٹوں کے دوران (ترکی اور شام کی سرحد پر) کرد فورسز کو ان کے ہتھیاروں سمیت شام کے اندر 30 کلو میٹر تک دور کر دیا جائے گا ... یہ شامی پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی کی خاطر ایک اہم قدم ہے"۔

چاوش اولو کے مطابق ترکی ،،، کرد فورسز کی جانب سے خالی کیے جانے والے علاقوں کا کنٹرول مقامی آبادی کے ساتھ مل کر سنبھالے گا۔ انہوں نے کہا کہ "اس وقت وہاں روس کی فورسز اور شامی حکومت کے کوسٹ گارڈ کے دستے ہوں گے۔ بعد ازاں شامی عوام کے تمام طبقات کی شرکت سے مقامی انتظامیہ تشکیل دی جائے گی۔ اہم چیز کرد فورسز کا دور کیا جانا ہے"۔

خبر رساں ایجنسی اناضول کے مطابق اولو نے ترکی اور شامی حکومت کے بیچ براہ راست رابطے کی تردید کی تاہم انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس کی سطح پر رابطے موجود ہیں اور یہ ایک طبعی امر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترکی پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے روس کے ساتھ کام کرے گا۔ اولو کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے لیے مطلوب انفرا اسٹرکچر کی تیاری کے حوالے سے عطیہ کنندگان (ڈونرز) کا اجلاس منعقد کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے کیوں کہ یہ ایسا معاملہ نہیں جس کو ترکی اور روس تنہا نمٹا سکیں۔