.

ترکی کے ممنوعہ ہتھیاروں سے جُھلسے کُرد بچے کی تصویر امریکی کانگرس میں پہنچ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کُردوں کی نمائندہ سیرین ڈیموکریٹک کونسل (ایس ڈی سی) کی مجلس عاملہ کی سربراہ الہام احمد نے امریکی کانگرس کے اجلاس میں کرُد بچے محمد کی تصویر پیش کر دی جس کا جسم ترکی کی جانب سے ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کے سبب جھلس گیا تھا۔ محمد کی تصویر نے پوری دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کردوں کے خلاف ترکی کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہو گئیں۔

امریکی کانگرس کے ارکان کی ایک ذیلی کمیٹی کے سامنے خطاب کرتے ہوئے الہام نے بتایا کہ ترکی نے 3 لاکھ لوگوں کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا جب کہ 250 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔ ان کے علاوہ 300 لوگ ابھی تک لا پتہ ہیں اور راس العین شہر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے سیاسی ونگ کی سربراہ کے مطابق شام کی 30% اراضی کو داعش تنظیم کے قبضے سے چھڑا لینے کے بعد تمام لوگ آزادی کے ساتھ جی رہے تھے۔ الہام نے کہا کہ "ہم نے داعش کے خلاف جنگ میں 11 ہزار جانوں کی قربانی دی اور ہمارے 25 ہزار جنگجو جسمانی اعضا سے محروم ہو گئے"۔

الہام نے داعش تنظیم کے خلاف جنگ میں ایس ڈی ایف کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے پر امریکی فورسز کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ علاقے کو مکمل طور پر آزاد کرانے کے بعد ترکی نے ہمیں ایک آزاد ریاست بنانے کا موقع نہیں دیا اور امریکی حکومت کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات کے باعث انقرہ حکومت نے دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔

الہام نے واضح کیا کہ "ہمیں یقین تھا کہ امریکا ہماری موجودگی کے علاقوں میں کسی بھی حملے کی اجازت نہیں دے گا ،،، ہمیں توقع تھی کہ امریکا فضائی حدود میں اڑان پر پابندی عائد کر دے گا ،،، اسی وجہ سے ہم نے سرحد پر سے اپنی فورسز کو ہٹا لیا تھا اور وہاں ترکی اور امریکا کے دستوں کا مشترکہ گشت شروع ہو گیا"۔

سیرین ڈیموکریٹک کونسل (ایس ڈی سی) کی مجلس عاملہ کی سربراہ کے مطابق ترکی کے اجرتی قاتلوں نے ہمارے سیاست دانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جن میں ہفرین خلف شامل ہیں۔ تُرکوں نے شہریوں کے خلاف قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا اور کیمیائی گیس اور فاسفورس کا استعمال کیا۔

الہام احمد کا کہنا تھا کہ "ہم نے اپنی بساط کے مطابق لڑائی روکنے کی کوشش کی۔ تاہم ترکی نے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کی فورسز ہماری 120 کلو میٹر طویل اراضی میں 32 کلو میٹر اندر تک گھس آئیں۔ ترکی کی فورسز کے شانہ بشانہ ہماری فورسز کے خلاف لڑنے والے درحقیقت داعش تنظیم کے وار لارڈز ہیں جو خود کو جیشِ حُر کا نام دیتے ہیں۔ یہ لوگ وہ ہی نعرے لگاتے ہیں جو داعش کے ارکان لگاتے تھے"۔

ریپبلکن سینیٹر لنڈے گراہم اور ڈیموکریٹک سینیٹر وین ہولن نے الہام احمد کے ساتھ طویل ملاقاتیں کیں۔ اس دوران ترکی کا حملہ اور کردوں کے خلاف مرتکب جرائم زیر بحث آئے۔

وین ہولن نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ "شام میں کردوں کی اعلی ترین سیاسی نمائندہ الہام احمد نے موجودہ خوف ناک صورت حال کو بیان کیا جو ہمارے حرکت میں آنے کا تقاضہ کرتی ہے۔ ہم الہام کے ہنگامی مشن میں ان کے ساتھ ہیں اور کانگرس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں حرکت میں آئے"۔