.

شام سے آنے والی امریکی فوج کو عراق میں قیام کی اجازت نہیں دی: عبدالمہدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے بدھ کے روز کہا کہ ان کے ملک نے شام سے انخلاء کے بعد امریکی افواج کو عراق میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم شام سے آنے والے امریکی فوجیوں سے متعلق بین الاقوامی قانون کے تحت کارروائی کر رہے ہیں۔

عبد المہدی کے یہ ریمارکس عراقی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کی جانب سے منگل کے روز ایک بیان میں تصدیق کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں کہ جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی فوج کو عراق میں داخلی کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی اس حوالے سے حکومت کی طرف سے کوئی منظوری دی گئی ہے۔

صرف 4 ہفتے کا قیام

عراقی وزیر دفاع ، نجاح الشمری نے اعلان کیا تھا کہ شام سے عراق واپس جانے والی امریکی افواج چار ہفتوں میں روانہ ہو جائیں گی۔

الشمری نے امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر سے ملاقات کے بعد خبر رساں ادارے 'اے اپی' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شام سے آنے والی امریکی فوج ہماری مہمان ہے۔ انہیں یہاں مستقل قیام کی اجازت نہیں۔ وہ جلد ہی امریکا روانہ ہوجائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام سے آنے والے امریکی فوجی عراق پہنچیں گے اور پھر کویت ، قطریا امریکا جائیں گے۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر بدھ کے روز غیراعلانیہ دورے پر بغداد پہنچے تھے۔

ایک سفارتی ذرائع کے مطابق ایسپر نے بغداد میں عراقی عہدیداروں کے ساتھ امریکی فوج کی آمد کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ شام سے امریکی فوج اس وقوت نکلنا شروع ہوئی تھی جب شمال مشرقی شام میں ترکی نے کرد ملیشیا کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔