.

ترکی کے حمایت یافتہ شامی جنگجوؤں کے ہاتھوں کُرد لاش کی بے حرمتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے کئی ذمے داران اس امکان کا اظہار کر چکے ہیں کہ ترکی نے شمالی شام میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ بالخصوص جب کہ ایسی متعدد وڈیو وائرل ہوئی ہیں جن میں انقرہ کے حمایت یافتہ شامی گروپوں کو گردنیں کاٹنے کی دھمکی دیتے ہوئے یا مقتولین کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسی ہی ایک نئی وڈیو میں شامی گروپ کے عناصر کو ایک کرد خاتون جنگجو کی لاش کا تقدس پامال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق وڈیو میں ترکی کے حمایت یافتہ گروپ "فيلق المجد" کا ایک جنگجو سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے مارے جانے والے جنگجوؤں کی تعداد پر فخر کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

وڈیو میں نمودار جنگجو نے کہا کہ "خنزیروں کی لاشیں فیلق المجد کے مجاہدین کے قدموں تلے پڑی ہیں"۔

بعد ازاں وڈیو میں کرد ویمن پروٹیکشن یونٹس کی ایک جنگجو خاتون کی لاش نظر آئی جس کو فیلق المجد کے جنگجوؤں کے ہاتھوں بے حرمتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس دوران خاتون کی لاش کو پاؤں سے روندا گیا اور ایک جنگجو اس حرکت کے دوران ہنستے مسکراتے ہوئے "الله اكبر" کے نعرے لگا رہا ہے۔

یاد رہے کہ شام کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے جیمز جیفری کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے اس بات کے ثبوت دیکھے ہیں کہ ترکی کی فوج نے شام میں کردوں پر حملے کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔

امریکی ایوان نمائندگان میں بدھ کے روز ایک اجلاس کے دوران جیفری نے واضح کیا کہ "ہمیں ترکی کی جانب سے نسلی تطہیر کے شواہد نہیں نظر آئے تاہم ایسے کئی واقعات کے بارے میں رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جو جنگی جرائم شمار ہوتے ہیں"۔

خصوصی ایلچی نے مزید بتایا کہ امریکی ذمے داران مذکورہ رپورٹوں کو زیر بحث لانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ترکی کی حکومت سے اس حوالے سے وضاحت بھی طلب کی گئی ہے۔ جیفری کے مطابق امریکی ذمے داران ایک رپورٹ کی بابت تحقیق کر رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ترکی نے کردوں پر حملے کے دوران (جھلسا دینے والا) ممنوعہ سفید فاسفورس استعمال کیا۔