.

ترکی نواز شامی گروپوں کے ہتھے چڑھ جانے والی کُرد لڑکی کی تصویر اور شناخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے گروپ المرصد کے ساتھ کام کرنے والے ایک شامی کارکن نے جمعے کے روز سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی صفوں میں لڑنے والی ایک جنگجو لڑکی کی تصویر جاری کی ہے۔ تصویر میں یہ لڑکی بیٹھی نظر آ رہی ہے اور اس کے گرد "نیشنل آرمی" کے کئی ارکان کیمرے میں مسکراتے دکھائی دے رہے ہیں۔ شمالی شام میں ترکی کی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والی فورس "نیشنل آرمی" کے نام سے جانی جاتی ہے۔

اس سے قبل نیشنل آرمی کے ایک رکن کے موبائل سے اِفشا ہونے والی ایک وڈیو میں نیشنل آرمی کا ایک گروپ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی اس جنگجو لڑکی کو زخمی حالت میں لے کر جاتے ہوئے نظر آ یا تھا۔ گروپ کا ایک رکن اس لڑکی کو تھامے ہوئے تھا اور ساتھ ہی شامی لہجے میں "ذبح ذبح" کی آوازیں لگا رہا تھا۔

کرد وومن پروٹیکشن یونٹس کی جنرل کمان نے جمعے کے روز ایک بیان جاری کیا تھا جس میں مذکورہ کرد جنگجو لڑکی کے بارے میں بعض تفصیلات پیش کی گئیں۔ بیان کے مطابق "21 اکتوبر کو رات 9 بجے ترکی کی فوج نے عین عیسی کے علاقے میں واقع گاؤں مشرافہ پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں جھڑپیں شروع ہو گئیں اور اس دوران کرد جنگجو لڑکی جیکک کوبانی زخمی ہو کر ایردوآن کے گروپوں کے ہاتھوں قیدی بن گئی"۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ جیکک کوبانی کی پیدائش شام کے علاقے عین العرب میں ہوئی۔ اس نے داعش تنظیم کے خلاف معرکوں میں بھی شرکت کی۔ وہ حال ہی میں عین عیسی کے علاقے میں ترک فوج کے خلاف لڑنے کے لیے ایس ڈی ایف کی صفوں میں شامل ہوئی۔ بیان کے مطابق جیکک زخمی حالت میں ترکی کے اجرتی قاتلوں کے ہاتھوں میں ہے اور اس کی زندگی کو خطرہ درپیش ہے۔

بیان میں عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے فوری مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کرد لڑکی کی زندگی بہت بڑے خطرے میں ہے اور منظر عام پر آنے والا وحشیانہ وڈیو کلپ حقیقت کو بڑی حد تک ظاہر کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے جمعرات کے روز واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ شمالی شام میں ترکی کے حلیف گروپوں کی جانب سے وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔

گذشتہ ہفتے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اعلان کیا تھا کہ شمالی شام میں ترکی کی فوج بھی جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے۔