.

عراق میں پرتشدد مظاہروں میں خون کی ندیاں بہہ گئیں، 40 ہلاک، 2000 زخمی

کربلاء میں لوگوں کے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای اور قاسم سلیمانی کے خلاف مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں کل جمعہ کے روز ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران اب تک کم سے کم 40 افراد ہلاک اور دو ہزار سے زاید زخمی ہو چکے ہیں۔ ملک کے بیشتر شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ دوسری جانب عراقی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر طاقت کے بے دریغ استعمال کا الزام عاید کیا جا رہا ہے۔

عراقی ہیومن رائٹس کمیشن نے کہا ہے کہ جمعہ کے روز ہونے والے مظاہروں میں 40 افراد ہلاک اور 2 ہزار سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ عراقی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ بصرہ شہر میں سیکیورٹی فورسز پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔

عراقی جوڈیشل کونسل نے اس بات پر زور دے کر خبردار کیا ہے کہ کہ فوج اور سیکیورٹی اداروں اور سرکاری اداروں کے مراکز پر قابل سزا جرم تصور ہو گا۔ سیکیورٹی اداروں پرحملوں میں ملوث شخص کوسزائے موت دی جائے گی۔ ایک سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ جنوبی عراق میں ایک مسلح گروپ کے مرکز میں آگ لگانے کے بعد 11 مظاہرین ہلاک ہو گئے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ عراقی حکومت نے جنوبی صوبوں میں انسداد دہشت گردی فورسز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب عراقی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اس کی افواج دہشت گردوں کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے مطابق نمٹے گی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں تخریب کاروں کو گھسنے کی اجازت نہ دیں اور فسادیوں کی نشاندہی کرکے ان کے بارے میں سیکیورٹی اداروں کو مطلع کریں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی ادروں، سرکاری اور نجی املاک پر حملے یا کسی بھی دوسری تخریبی کارروائی میں ملوث افراد سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ مظاہروں کی آڑ میں ملک میں تباہی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

کربلا میں ایران کے خلاف مظاہرے

عراق کے شیعہ اکثریتی شہر کربلا میں مظاہرین نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر پھاڑ دیں۔ انہوں نے ایران کی سمندرپار کارروائیوں میں سرگرم القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے خلاف بھی نعرے لگائے۔ العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق کربلا میں کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔

سکیورٹی عہدیداروں نے پہلے اعلان کیا تھا کہ عراق میں جمعہ کے روز ہونے والے احتجاج میں 23 مظاہرین ہلاک اور 1779 زخمی ہوئے ہں۔ یہ ہلاکتیں بصرہ اور واسط گورنریوں میں ہوئی ہیں۔ بصرہ میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے 10 سکیورٹی اہلکاروں کو زخمی کردیا۔

عراق میں انسانی حقوق ہائی کمیشن کے مطابق بغداد ، میسان ، ذ قار اور مثنی کے علاقوں سیکیورٹی فورسز مظاہرین کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 21 افراد ہلاکت ہو گئے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے چاروں صوبوں میں بصرہ اور دیوانیہ زخمیوں کی تعداد 1779 تک جا پہنچی تھی۔ زخمیوں میں زیادہ تر گولیاں لگنےآنسوگیس کی شیلنگ یا دھاتی گولیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بابل، دیوانیہ، میسان، واسط، ذی قار اور بصرہ میں کم سے کم 27 سرکاری عمارتوں اور سیکیورٹی ہیڈ کوارٹرز کو آگ لگائی گئی۔ بابل، کربلا اور نجف میں مظاہرین نے احتجاجی دھرنے بھی دیئے۔

سیکیورٹی اور طبی ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کے روز مظاہرین نے العمارہ شہر میں ایک مسلح گروپ کے مرکز کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو اس دوران ہونے والے تشدد کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔

بغداد سے 350 کلومیٹر جنوب میں واقع العمارہ شہر میں مظاہرین نے الحشد الشعبی ملیشیا کے ایک مشہور گروہ عصائب الحق کے صدر دفتر پر حملہ کیا۔

دو ہفتے قبل عراق میں حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران تشد کے نتیجے میں 157 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔ چند روز کی خاموشی کے بعد عراق کے شہروں میں احتجاج کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے جس میں اب تک چالیس افراد ہلاک اور دو ہزار سے زاید زخمی ہوگئے ہیں۔